Share this link via
Personality Websites!
نظر کی حفاظت کی اہمیت کا اندازہاس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ قرآنِ پاک میں اس کے بارے میں بڑا واضح حکم ارشاد ہوا ہے،چنانچہ
پارہ 18سورۂ نورکی آیت نمبر30میں ارشادِ ربانی ہے:
قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ(۳۰) (پ۱۸، النور: ۳۰)
تَرْجَمَۂ کنز العرفان:مسلمان مردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نيچی رکھيں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کريں یہ ان کے لئے زیادہ پاکیزہ ہےبیشک اللہ ان کے کاموں سے خبردار ہے۔
مکتبۃ المدینہ کی کتاب”مختصر منہاج العابدین“کے صفحہ نمبر 62 پر ہے کہ یہاں نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اور بندے پر لازم ہےکہ اپنے مالک کے حکم پر عمل کرےورنہ وہ بے ادب قرار پائے گااور اُسے روک کر مالک کی بارگاہ میں حاضری کی اجازت نہیں دی جائے گی اور آیتِ طیبّہ میں یہ جو فرمایا گیا:” ذٰلِكَ اَزْكٰى “یہ ان کے لئے ستھرا ہے یعنی ان کے دلوں کو ستھرا کرنےاوران کی بھلائی کو بڑھانے والا ہے۔ اس فرمان سےآگاہ فرمایاگیاکہ نگاہوں کو نیچا رکھنے میں دل کی پاکیزگی اور عبادت وبھلائی کی کثرت ہے۔ کیونکہ اگر تم اپنی نگاہ کو نہیں روکو گے اور اس کی لگام ڈِھیلی چھوڑ دو گے تو وہ لایعنی چیزوں کو دیکھے گی اور اگر اللہ پاک کی رحمت شامِلِ حال نہ ہوئی تو تم ہلاک ہو جاؤ گے۔اس لئے کہ یا تو تم حرام کو دیکھو گے تو گناہ میں پڑ جاؤ گے یا پھر مباح کی طرف نظر کرو گے تو تمہارا دل اس میں مشغول ہو جائے گااور تمہیں اس کے سبب وسوسے اور خیالات آئیں گے،بالآخر تمہارا دل بھلائی سے غافل ہو کر اِنہی میں لگا رہے گا۔( مختصر منہاج العابدین،ص۶۲)
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami