Share this link via
Personality Websites!
ایک مرتبہ آپ مسجد سے باہر آرہے تھے کہ اچانک راستے میں ایک نوجوان عورت پر نَظْر پڑی اور دل کچھ دیر کے لئے اس کی طرف مائل ہوگیا لیکن پھر فوراً اپنے اس فعل پر نادِم ہوئے اور بارگاہِ الٰہی میں دُعا کے لئے ہاتھ اُٹھائے اور ان الفاظ میں دُعا مانگنے لگے:اے میرے پاک پَروردگار!بے شک تُو نے مجھے آنکھیں عطا فرمائیں جو کہ بہت بڑی نعمت ہے، لیکن مجھے خطرہ لگ رہا ہے کہ کہیں ان آنکھوں کی وجہ سے میں عذاب میں مبُتلا نہ ہو جاؤں اور یہ آنکھیں میرے لئے ہلاکت کا با عث نہ بن جائیں،اے میرے پاک پروردگار! تُومیری آنکھوں کی بینائی سَلْبْ کرلے۔جیسے ہی آپ دُعا سے فارغ ہوئے آپ کی بینائی ختم ہوچکی تھی اور آپ نابینا ہوگئے ۔چنانچہ آپ اپنے بھتیجے کو اپنے ساتھ رکھتے جو نَماز وں کے اَوْقات میں آپ کومسجد تک لے جاتااور دیگر حاجات میں بھی آپ اس سے مَدَد لیتے۔ آپ کا بھتیجا آپ کو مسجد میں چھوڑ جاتا اور خود بچوں کے ساتھ کھیلنے لگتا۔ جب آپ کو کوئی حاجت درپیش ہوتی تو اسے بُلالیتے اسی طر ح وقت گزرتا رہا ۔
ایک مرتبہ آپ مسجد میں تھے کہ آپ کو اپنے جسم پر کوئی چیز رینگتی ہوئی محسوس ہوئی،آپ نے بھتیجے کو آوازدی لیکن وہ بچو ں کے ساتھ کھیل میں مگن رہا اور آپ کے پاس نہ آسکا ۔ آپ کو خطرہ تھا کہ کوئی نقصان نہ پہنچا دے ۔ چنانچہ آپ نے اللہ پاک کی بارگاہ میں دوبارہ فریاد کی، اے میرے مولیٰ!اب مجھے یہ خوف ہے کہ اگر میری بینائی واپس لوٹ کر نہ آئی تو کہیں یہ میرے لئے آزمائش اور رُسوائی کاباعث نہ بن جائے کیونکہ مَیں اب دیکھ تونہیں سکتا،کوئی مُوذی جانور مجھے نقصان پہنچا سکتا ہے اور باربار اپنی حاجتوں کو پورا کرنے کے لئے دوسرو ں کی مدد درکار ہوتی ہے، جس سے مجھے بڑی آزمائش ہوتی ہے،اے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami