Share this link via
Personality Websites!
جب اللہ پاک نے سب روحوں سے عہد لیا اس دن روحوں کا مقام انہی مرتبوں پر تھا جو بیان کیے گئے ہیں اور قیامت کے دن بھی انہی مرتبوں پر ہوں گے۔[1] یعنی ہمارے آقا ، دوعالم کے داتا کا مرتبہ عالَمِ ارواح میں بھی سب سے بلند تھا اور قیامت میں بھی سب سے بلند ہوگا ۔
اے عاشقانِ رسول!سیدِ عالم،نورِ مجسم تمام جہانوں کےلیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ۔اس رحمت کا عالم یہ تھا کہ اللہ پاک نے آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لعابِ دہن(یعنی تُھوک مبارک میں) وہ برکت رکھی کہ جو زخمیوں اور بیماروں کے لئے شفا اور زہر کا اثر دُور کرنے والا تھا۔ چنانچہ
روایت میں ہے کہ ہجرت کی رات حضور رحمتِ عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے دولت خانے سے نکلےاور حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہ بھی آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ تھے ،جب آپ غارِ ثورمیں پہنچےتو حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہ پہلے خود غار میں داخل ہوئے اور اچھی طرح غار کی صفائی کی اور اپنے کپڑوں کو پھاڑ پھاڑ کر غار کے تمام سوراخوں کو بند کیا ،پھرحضورِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم غار کے اندر تشریف لے گئے اور حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی گود میں اپنا سر مبارک رکھ کر سو گئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے ایک سوراخ کو اپنی ایڑی سے بند کررکھا تھا، سوراخ کے اندر سے ایک سانپ نے بار بار یارِ غار کے پاؤں میں کاٹا، مگر جاں نثار نے اس خیال سے پاؤں نہیں ہٹایا کہ رحمتِ عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خواب
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami