Share this link via
Personality Websites!
زخمی ہوئے تو حضرت مالِک بن سنان رَضِیَ اللہُ عنہ ان زخموں(Wounds) کا خون چوس کر پی گئے۔ اس پر حضور اقدس صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے انہیں بشارت دی کہ جو جنتی آدمی کو دیکھنا چاہے تو انہیں دیکھے۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! غور فرمائیے! جن صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضْوَان نے پیارے نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے جسمِ پاک سے نکلا ہوا خُون مبارک پِیا، وہ جہنّم سے محفوظ اور جنّت کے حق دار ہو گئے تو وہ پاک حضرات جو اسی خون سے بنے ہیں اور وہ مبارک خون ان کی رگوں(Veins) میں جاری ہے، انہیں جہنّم کی آنچ کیوں کر پہنچ سکتی ہے؟([2])
اللہ پاک نے وعدہ فرمایا ہے کہ...
رسولِ رحمت، شفیعِ امت صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم فرماتے ہیں: میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میرے اہلِ بیت میں سے جو اللہ پاک کی وحدانیت اور میری رسالت کا اقرار کرے گا اللہ پاک اس پر عذاب نہ فرمائے گا۔([3])
پیارے اسلامی بھائیو! یاد رہے! خُون حرام ہے (Blood is Prohibited)، انسان تو انسان کسی حلال جانور کا بھی خُون پینا جائِز نہیں ہے کیونکہ خُون ناپاک ہوتا ہے مگر ہمارے آقا و مولیٰ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی نِرالی شان ہے، آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami