Share this link via
Personality Websites!
کرنے کے لئے اپنی جان بیچ دیتا ہے اور اللہ بندوں پر بڑا مہربان ہے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
اے عاشقانِ صحابہ و اَہل بیت! سب جانتے ہیں کہ 10 مُحَرَّمُ الحرام، 61 سنِ ہجری کو کربلا کے میدان میں تاریخِ انسانی کا ایسا دَرْدناک سانحہ پیش آیا کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔ اُس روز اَہْلِ بیتِ پاک پر ظُلْم کے جو پہاڑ توڑے گئے، آج تک اُن کی کَسَک(دَرْد) دِلوں میں موجود ہے، آج بھی ہم کربلا کے دَردناک واقعات سُنتے ہیں، پڑھتے ہیں *وہ اَہْلِ کربلا پر پانی بند کیا جانا *تپتے صحرا پر وَارِثانِ کوثَر و سَلْسَبِیْل کا پیاس برداشت فرمانا *حضرت علی اَصْغَر رَضِیَ اللہُ عنہ کے گلے مبارَک پر لگنے والا وہ تِیْر *حضرت علی اَکْبَر رَضِیَ اللہُ عنہ کا بھری جوانی میں دادِ شُجاعت دیتے ہوئے شہادت کو گلے لگانا*نیک خواتین کا اُس قیامت نُما منظر میں بھی پردہ داری اور حیا کا پاس و خیال فرمانا *آخر امامِ عالی مقام، امام حُسَین رَضِیَ اللہُ عنہ کا دِین کی سربلندی کی خاطِر سَر مبارَک کا نذرانہ پیش فرمانا، اُس قیامت نما واقعے کو صَدیاں گزر چکیں، آج بھی اُس کا ذِکْر کرتے، سُنتے، پڑھتے ہیں تو عاشقوں کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں، سینوں سے آہیں بلند ہوتی ہیں، دِل ایک حسرت، مایُوسی اور تمنّا میں ڈوب جاتا ہے کہ کاش! میں وہاں ہوتا، ادب سے سَر کا نذرانہ پیش کر کے اَہْلِ بیتِ پاک کی خِدْمت کی سعادت پا لیتا۔
علّامہ اِبْنِ جوزی رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عَمْرو بن لَیْث رحمۃُاللہ علیہ کے سامنے ان کی فوج جمع کی گئی، آپ نے اپنی فوج کی کَثْرت دیکھی تو دِل ہی دِل میں ایک غمگین آہ بھری اور کہا: اے کاش! امامِ حُسَیْن رَضِیَ اللہُ عنہ کی شہادت کے وقت کربلا میں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami