Share this link via
Personality Websites!
اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! بےشک ساتویں آسمان پر لکھا ہے: حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَسَدُ اللهِ وَأَسَدُ رَسُوْلِهِ یعنی حضرت حمزہ بن عبد ُالْمُطَّلِب اللہ اور اس کے رسول کے شیر ہیں۔ ([1])
وہی شیر ہیں خُدا کے اور شیر مصطفےٰ کے ہیں مُحِبِّ حبیبِ داور آقا امیر حمزہ!
حضرت حمزہ جنّت میں ٹیک لگائے ہوئے
حضرت عبد اللہ بن عبّاس رَضِیَ اللہُ عنہما سے روایت ہے، اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: رات میں جنّت میں داخِل ہوا تو دیکھا؛ حمزہ ( رَضِیَ اللہُ عنہ ) اپنے دوستوں کے ساتھ موجود تھے۔([2])
ایک روایت میں ہے، فرمایا: رات میں جنّت میں داخِل ہوا تو دیکھا: حضرت جعفر طیار رَضِیَ اللہُ عنہ فرشتوں کے ساتھ ہوا میں اُڑ رہے تھے جبکہ حضرت حمزہ رَضِیَ اللہُ عنہ تخت پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔([3])
حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللہُ عنہ کی شہادت
پیارے اسلامی بھائیو! 15 شوَّال ، سن 3 ہجری کو حق و باطِل کا عظیم معرکہ ہوا، جسے غزوۂ اُحُد کہا جاتا ہے، غزوۂ اُحُد میں حضرت امیر حمزہ رَضِیَ اللہُ عنہ بھی شریک تھے، آپ بہت بہادری سے لڑے، آخر شہادت کے بلند رُتبے پر فائِز ہوئے([4]) بوقتِ شہادت آپ کی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami