Share this link via
Personality Websites!
بیٹے کو سلام بھیجا اور یہ پیغام بھجوایا کہ مصر کے شہروں میں چونکہ جہالت کا غلبہ ہوچکا ہے لہٰذا اب میرے لئے جائز نہیں کہ ان شہروں سے نکل جاؤں۔ چنانچہ آپ ایک ایک دکاندار کے پاس جاکر اُسے اس کی حاجت کے مسائل سکھاتے مثلاً عقائد کے متعلّق بتاتے، وضو کے فرائض، اس کی سنّتیں اور فضائل بتاتے، یوں ہی تَیَمُّم، غسل اور نماز کے مسائل سکھاتے پھر اس کی دکان میں موجود سامان کے حوالے سے اس پر لازم اَحکام سکھاتے، لَین دَین، خرید و فروخت، کس طریقۂ عمل سے سُود میں پڑنے کا خطرہ ہے اور سود سے بچنے کے طریقوں سے آگاہی دیتے اور جب اَحکام سکھا کر فارغ ہوتے تو اس دکاندار سے فرماتے: اِسے اپنے پڑوسی دکاندار کو سکھادو پھر دوسری دکان پر چلے جاتے (آپ اسی طرح دکان دکان جا کر لوگوں کو مسائل سکھاتے رہے) یہاں تک کہ بازار کے لوگوں میں علم کی روشنی پھیل گئی اور جہالت کی تاریکیاں چَھٹ گئیں۔
علّامہ اِبنُ الحاجّ مکّی رحمۃُ اللہِ علیہ اس حکایت کو ذکر کرنے کےبعدارشاد فرماتے ہیں: یہ (یعنی دکان دکان جا کر لوگوں کو مسائل سکھانا) بازار میں عِلم کے غلبے اور اس کے پھیلنے کا سبب بنا۔ اگر امام طُرْطُوشی رحمۃُ اللہِ علیہ گھر میں بیٹھے رہتے کہ کوئی ان کے پاس آکر عِلم سکھانے کا کہے گا تو کوئی بھی ان سے نفع نہیں اٹھا پاتا، اس لئے عُلَما (اور مُبَلّغین) پر لازم ہے کہ جب وہ دیکھیں کہ لوگ عِلم سے منہ موڑ چکے ہیں تو خود ان کے پاس جاکر عِلم سکھائیں اور ان کی راہنمائی کریں اگرچہ وہ ان کے ساتھ بےرُخی برتیں کیونکہ عُلَما اَنْبیا کے وارث ہیں اور ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم بھی اُس وقت جب لوگ اِعراض کئے ہوئے تھے قبائلِ عرب کے پاس تشریف لے جاتے تھے تاکہ وہ آپ کی اِتّباع اور مدد کریں۔ ([1])
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami