Share this link via
Personality Websites!
فرق طالِب و مطلوب دیکھے کوئی قصۂ طُور و مِعْراج سمجھے کوئی
کوئی بیہوش، جلووں میں گم ہے کوئی کس کو دیکھا یہ موسیٰ سے پوچھے کوئی
آنکھ والوں کی ہمّت پہ لاکھوں سلام
پیارے محبوب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کو باربار جلوۂ نُورِ اِلٰہی دیکھنے کی سَعَادَت کہاں ملی؟ اللہ پاک فرماتا ہے:
عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى(۱۴) (پارہ:27، النجم:14)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: سِدْرۃُ المنتہیٰ کے پاس۔
یعنی اس وقت رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم سِدْرۃُ المنتہیٰ سے بہت آگے تشریف رکھتے تھے۔([1]) یہ سِدْرۃُ المنتہیٰ کہاں ہے؟ فرمایا:
عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ(۱۵) (پارہ:27، النجم:15)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اس کے پاس جنت الماویٰ ہے۔
جنّت کے مختلف درجات ہیں، ان میں سے ایک درجہ جنّت الماویٰ ہے، یہ وہ جنّت ہے جہاں حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام تشریف فرما رہے ہیں،([2]) یعنی سِدْرۃُ المنتہیٰ وہاں ہے، جہاں جنّتُ الْمَاویٰ ہے۔
جب پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم یہاں سِدْرۃُ المنتہیٰ کے پاس تھے، اس وقت کیا ہوا؟ فرمایا:
اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ(۱۶) (پارہ:27، النجم:16)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: جب سِدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami