Share this link via
Personality Websites!
پاک سے جنّت بھی دِلوا دیتے ہیں۔
(3): جاؤ! تم سب آزاد ہو...!
منقول ہے : جس دن مکہ فتح ہوا ، تب رحیم و کریم آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے مکہ والوں سے پوچھا:اے قُریش! تمہارا کیا خیال ہے، میں تم سے کیسا سُلُوک کرنے والا ہوں؟ اُنہوں نےعرض کی:نَظُنُّ خَیْراً،یعنی ہم آپ سے خیر ہی کی تَوقُّع رکھتے ہیں،نَبِیٌّ کَرِیْمٌ وَ اَخٌ کَرِیْمُ وَ ابْنُ اَخٍ کَرِیْمٍ وَ قَدْ قُدِرْتَ، کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کریم نبی ہیں، کَرِیْمُ الْنَفْس بھائی ہیں اور ہمارے کریم و مہربان بھائی کے فرزند ہیں اور اللہ پاک نے آپ کو ہم پر قُدرت عطا فرمائی ہے،تو رحمتِ عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے اِرْشاد فرمایا: آج میں تمہیں وہی بات کہتا ہوں، جو میرے بھائی یُوسف نے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہی تھی، پھر پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے یہ آیتِ مُبارکہ تلاوت فرمائی:
لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَؕ-یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ٘-وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ(۹۲) (پارہ:13، سورۂ یوسف:92)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: آج تم پر کوئی ملامت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے
اور فرمایا:جاؤ تم سب آزاد ہو۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! آج کل ہمارے ہاں جب حِلْم کی بات کی جاتی ہے، مُعَاف کر دینے کی بات کی جاتی ہے تو لوگ کہتے ہیں: مجھے ہی صَبر کا مشورہ دیتے ہو، مجھے ہی مُعَاف
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami