Share this link via
Personality Websites!
اُس کو صِرْف اِس لئے مَان لینا کہ وہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمائی ہے ، یہ اِس بات کی دَلیل ہے کہ اُس کے دِل میں اِطَاعت ہے۔ مزید فرماتےہیں : سچ پُوچھو تو اِیمان کی جان تو یہ ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی خبر پر اپنے حَوَّاس (آنکھ ، کان اور عقل وغیرہ ) سے زیادہ اِعْتِمَاد ہو ، اگر ہم آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اس وقت دِن ہے اور نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں کہ اِس وقت رات ہے تو ہماری آنکھ جُھوٹی ہے اور نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم سچّے ہیں کیونکہ ہماری آنکھ ہزار دفعہ غلطی کر جاتی ہے مگر ان کا فرمان کبھی غلط نہیں ہوتا۔([1])
شاہانِ جہاں کیونکر رکھیں نہ سر آنکھوں پر
فرمانِ الٰہی ہے فرمان مُحَمَّد کا
حُور و مَلک و غِلْمَاں جِنْ و بَشر و حَیْوَاں
لیتے ہیں سبھی سَر پر فَرْمَان مُحَمَّد کا([2])
حضرت ابو عُبَیْد رَضِیَ اللہُ عنہ صحابئ رسول ہیں، ایک مرتبہ انہوں نے رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سُلطان صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّمکی کھانے پر دعوت کی، بکری کا گوشت بنایا۔ کھانا شروع ہوا تو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: نَاوِلْنِیْ ذِرَاعَہَا مجھے اِس کی دَسْتی (اگلی ٹانگ) دَو! پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو دَسْتی کا گوشت پسند تھا۔ حضرت اُبُو عبید رَضِیَ اللہُ عنہ نے دستی پیش کی۔ کچھ دَیر کے بعد آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے پِھر فرمایا: نَاوِلْنِی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami