Share this link via
Personality Websites!
یہ پہلا انعام ہے؛ جو بندہ یہ انوکھی تجارت کرے گا یعنی دِینِ اسلام کی مالی اور جانی خِدْمت کرے گا، اس کو پہلا انعام یہ ملے گا کہ اس کے گُنَاہ معاف کر دئیے جائیں گے۔
یہ بہت بڑا اِنْعَام ہے۔ گُنَاہ مُعَاف ہو جانے کا مطلب ہے جہنّم سے آزادی مِل جانا۔ قیامت کے دِن جب اللہ پاک کی بارگاہ میں حاضِری ہو گی، آہ! *وہ 50 ہزار سال کا دِن *قیامت کی گرمی*میزان رکھ دیاجائے گا*ایک ایک عَمَل کا حساب لیا جائے گا*اس وقت اگر اَعْمال نامے میں گُنَاہ نکل آئے، ان گُنَاہوں کی مُعَافی نہ مِل سکی، گُنَاہوں کا پلڑا بھاری ہو گیا تو آہ! جہنّم میں جانا پڑ سکتا ہے*وہ عظیم آگ...!! جو ہڈیوں تک کو جلا ڈالے گی*وہ جہنّم جہاں اُونٹوں کی گردنوں جیسے بڑے بڑے بچھوں ہوں گے*وہ جہنّم جہاں انتہائی شدید ترین عذاب ہوں گے، اگر گُنَاہوں کی مُعَافی نہ ملی تو اس جہنّم میں جلنا، عذابوں میں گرفتار ہونا بھی پڑ سکتا ہے مگر قربان جائیے! فرمایا: یہ انوکھی تجارت کرو! دِین کی جانی و مالی خِدْمت کرو! تمہارے گُنَاہ بخش دئیے جائیں گے۔ جب گُنَاہ بخشے جائیں گے تو اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! جہنّم سے چھٹکارا بھی مل جائے گا۔
اس انوکھی تجارت کا دوسرا انعام کیا ہے؟ فرمایا:
تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۙ(۱۲) (پارہ:28، سورۂ صف:12)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور تمہیں ان باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہیں اور پاکیزہ رہائش گاہوں میں جوہمیشہ رہنے کے باغوں میں ہیں ، یہی بہت بڑی کامیابی ہے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami