Share this link via
Personality Websites!
جاتی ہے۔آپ خُود غور کیجئے! جب معاشرے میں یہ اتنے سارے عیب (Flaws) نہ رہیں تو معاشرہ کیسا پاکیزہ اور خوبصُورت ہو جائے گا۔اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم تَوَکُّل اختیار کریں، اللہ پاک پر بھروسہ کرنا سیکھ لیں۔
تَوَکُّل بڑھانے کا روحانی وظیفہ
فَقِیْہُ الْعَصْر(یعنی اپنے دَور کے بہت بڑے عالِمِ دِین) مفتی محمد امین صاحِب رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:حَسْبُنَا اللہُ و َ نِعْمَ الْوَکِیْل کا وظیفہ کرنے سے تَوَکُّل پختہ ہوتا ہے اور جس کا تَوَکُّل پختہ ہو جائے، اسے کسی چیز کی کمی نہیں رہتی، کیونکہ اللہ پاک فرماتا ہے:([1])
وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗؕ- (پارہ:28،الطلاق:3)
ترجمہ کنزُ العِرْفان:اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
(3):صِدْق یعنی سچائی
پیارے اسلامی بھائیو!سلسلہ عالیہ قادریہ کا تیسرا اَہَم بنیادی اُصُول صِدْق یعنی سچّائی ہے۔ایک مرتبہ کسی نے حُضُورِ غوثِ پاک رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ سے پوچھا: آپ کے طریقے کی بنیاد کس چیز پر ہے؟ فرمایا: عَلَی الصِّدْقِ یعنی میرے طریقے کی بنیاد سچّائی (Truthfulness) پر ہے۔ میں نے بچپن (Childhood) سے اب تک کبھی بھی جھوٹ نہیں بولا۔([2])
معاشرے کی اِصْلاح کے لئے یہ بھی بہت اَہَم بنیاد ہے۔اگر معاشرے میں جھوٹ پر
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami