Share this link via
Personality Websites!
441066
7732
معلوم ہوا قیامت کے دِن نہ مال کام آئے گا، نہ اَوْلاد کام آئے گی، قیامت کے دِن قلبِ سلیم کام آئے گا۔ قلبِ سلیم کیا ہے؟ *وہ دِل جو کفر و شرک سے پاک ہو *جس دِل میں بدعقیدگی نہ ہو *وہ دِل جو باطنی بیماریوں سے پاک ہو *جس میں حسد نہ ہو *بغض نہ ہو *کینہ نہ ہو *دُنیا کی محبت نہ ہو، ایسے پاکیزہ دِل والا روزِ قیامت کامیاب ہو گا۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ عنہ فرماتے ہیں: پیارے آقا، نور والے مصطفےٰ صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی پاک بارگاہ میں عرض کیا گیا: اَیُّ النَّاسِ اَفْضَلُ؟ یا رسولَ اللہ صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم! لوگوں میں اَفْضَل کون ہے؟ فرمایا: کُلُّ مَخْمُوْمِ الْقَلْبِ، صَدُوقِ اللِّسَانِ ہر وہ بندہ جو مَخْمُوْمُ الْقَلْب ہے اور سچّی زبان والا ہے۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ عنہ نے عرض کیا: یا رسولَ اللہ صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم! صَدُوْقُ اللِّسَان (یعنی سچّی زبان والا) کسے کہتے ہیں، یہ تو ہم جانتے ہیں، مَخْمُوْمُ الْقَلْب کون ہے؟ فرمایا: وہ متقی شخص جس پر کوئی گُنَاہ نہ ہو، اس کے دِل میں نہ سرکشی ہو، نہ کینہ ہو، نہ ہی حسد ہو۔([1])
معلوم ہوا *جس کی زبان سچّی ہو*جھوٹ نہ بولے اور جس کے دِل میں نہ سرکشی ہو *نہ کینہ ہو*نہ بغض ہو*نہ حَسَد جلن ہو*وہ بندہ بڑی فضیلت والا ہے۔ امیرِاہلسنت مولانا محمد الیاس عطارقادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہبارگاہِ رسالت میں استغاثہ پیش کرتے ہیں:
جھوٹ سے بغض و حسد سے ہم بچیں کیجئے رحمت اے نانائے حُسین!([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami