Share this link via
Personality Websites!
کسی کے آنکھوں تک نکلتے ہیں، یہ داڑھی میں شامِل نہیں۔([1])*ایسے ہی ٹھوڑی کے نیچے گلے پر بال اُگتے ہیں، وہ بھی داڑھی کا حِصَّہ نہیں ہیں۔ ([2])
(1):داڑھی مُنْڈانا یا ایک مٹھی سے کم کروانا نَاجائز و حرام ([3])اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے۔ (2):فتاویٰ رضویہ میں ہے: داڑھی (یعنی چہرے کے دائرے سے باہَر لٹکے ہوئے بال) کم از کم چار انگل ہونا واجِب ہے، اس سے کم رکھنا جائِز نہیں، حرام ہونے میں یہ بھی مُنْڈانے (یعنی بالکل صاف کروا دینے) ہی کی طرح ہے۔ اگرچہ مُنْڈانا خبیث تَر (یعنی زیادہ بُرا ) ہے۔([4]) (3):بُچّی کے بال بھی داڑھی میں شامِل ہیں، ان کو کاٹنا بھی جائِز نہیں ۔([5]) جو شخص بُچّی کے بال منڈاتا مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ ُعَنہ اس کی گواہی قبول نہیں فرماتے تھے۔([6]) (4):بُچّی کے بال اتنے لمبے ہو جائیں کہ کچھ کھاتے پیتے مُنہ میں آئیں تو اب انہیں قینچی سے کتروانا (یعنی تھوڑا چھوٹا کروا لینا) جائز ہے۔([7]) (5):حدّ شرع (یعنی ایک مٹھی) سے زیادہ اتنی لمبی داڑھی رکھنا کہ چہرہ بدنُما لگے، خِلافِ سُنّت و مکروہ ہے۔([8]) (6):داڑھی مُنْڈانے یا خشخشی (یعنی ایک مٹھی سے کم رکھنے) والے کے پیچھے نماز مکروہِ تحریمی ہے،یعنی پڑھنا گُنَاہ اور پڑھ لی تو اسے دہرانا واجب ہے۔([9]) (7):داڑھی کی توہین کرنا یا اس کا مذاق اُڑانا کفر ہے۔([10]) (8):مونچھیں اتنی بڑھانا کہ مُنہ میں آئیں
[1]... فتاوی رضویہ ،جلد: 22، صفحہ: 596 ملخصاً ۔
[2]...وقار الفتاویٰ، جلد:1،صفحہ:142ماخوذاً۔
[3]...بہارشریعت ،جلد:3،صفحہ:585،حصہ:16۔
[4]...فتاویٰ رضویہ ،جلد:22،صفحہ:689بتغیر قلیل۔
[5]...فتاویٰ رضویہ ،جلد:22 ،صفحہ:598ملخصاً۔
[6]...فتاو یٰ رضویہ ،جلد:22 صفحہ:597 بتغیر قلیل ۔
[7]...فتاویٰ رضویہ ،جلد: 22،صفحہ:599ملخصاً۔
[8]...فتاویٰ رضویہ ،جلد: 22،صفحہ:581ملخصاً۔
[9]...فتاویٰ رضویہ ،جلد:22،صفحہ:544۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami