Share this link via
Personality Websites!
میوزیکل ٹُون وغیرہ سے محفوظ رکھنے کی پُوری کوشش کرے۔ (9): مسجد کی تَطْہِیْر و تَنْظِیْف یعنی اسے پاک صاف رکھناہر مسلمان پر واجب ہے۔ ([1])
آیت مبارکہ
وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآىٕفِیْنَ۬ؕ-لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۱۱۴) (پارہ:1،سورۂ بقرہ:114)
ترجمہ کنزُ العرفان: اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ کی مسجدوں کو اس بات سے روکے کہ ان میں اللہ کا نام لیا جائے اور ان کو ویران کونے کی کو شش کرے۔ انہیں مسجدوں میں داخل ہونا مناسب نہ تھا مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ۔
مشہور مفسر قرآن، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں: اس سے معلوم ہوا جس چیز سے مسجِد کی جماعت کم ہو، وہ منع ہے کیونکہ یہ وِیْرانی کی کوشش ہے۔ اسی لئے مسجد میں بدبودار چیزیں لے جانا حرام ہے، کچا لہسن، کچا پیاز کھا کر، حُقّہ یا سگریٹ پی کر (مُنہ سے بدبُو دُور کئے بغیر) وہاں جانا جائز نہیں کیونکہ اس سے مسلمانوں کو تکلیف ہو گی اور وہ مسجد میں آنا چھوڑ دیں گے۔([2])
فرمانِ مصطفےٰ صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم
لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ مسجدوں میں حلقہ بنا کر بیٹھیں گے اُن کا مقصد صرف دنیا ہی ہوگا (لہٰذا جب وہ زمانہ آئے تو )تم ایسے لوگوں کے ساتھ مت بیٹھنا کیونکہ اللہ پاک کو اُن سے کوئی کام نہیں ۔ ([3])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami