Share this link via
Personality Websites!
ہونے کی دعا کیا کرتے تھے۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! گویا اب یہ دُعائیں کرنے اور حسرت سے ہاتھ ملنے کے دِن شروع ہو چکے ہیں کہ آہ! ہم ماہِ رَمضَان کی صحیح معنوں میں قَدر نہیں کر پائے، اس پر حسرت کرنی ہے اور جو کچھ تھوڑی بہت نیکیاں کر پائے ہیں، ان کی قبولیت کی دُعا کرنی ہے۔
کچھ نہ حُسنِ عمل کر سکا ہوں نَذْر چند اشک میں کر رہا ہوں
بس یِہی ہے مِرا کُل اَثاثہ اَلوَداع اَلوَداع آہ! رَمَضاں([2])
اور امیرِاہلسنت مولانا محمد الیاس عطارقادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ بارگاہِ رسالت میں عرض کرتے ہیں:
میں ہائے! جی چراتا ہی رہا ربّ کی عبادت سے گزارا غفلتوں میں سارا رمضاں یارسولَ اللہ!
میں سوتا رہ گیا غفلت کی چادر تان کر افسوس! خدارا !میری بخشش کا ہو ساماں یارسولَ اللہ! ([3])
اللہ پاک ہمیں اپنی کوتاہیوں پر شرمندہ ہونے اور اللہ پاک سے رحمت کی دُعائیں مانگتے رہنے کی توفیق نصیب فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم
رَمضَانُ المُبَارَک کی ایک خصوصیت
پیارے اسلامی بھائیو! ماہِ رَمضَانُ المُبَارَک کی وہ خصوصیات جو احادیث میں بیان ہوئی ہیں، ان میں سے ایک اَہَم اور بہت پیاری خصوصیت یہ بھی بیان ہوئی کہ ”رمضان وہ مہینا ہے جو آدمی کو نئی زندگی بخشتا ہے“۔ چنانچہ حدیثِ پاک میں ہے: مَن قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami