Share this link via
Personality Websites!
کرلیجئے تاکہ ان کو بھی حج کا ثواب ملے، آپ کا بھی حج ہوجائے بلکہ مزید 10 حج کا ثواب ہاتھ آئے۔ اگر ماں باپ میں سے کوئی اس حال میں فوت ہوگیا کہ ان پر حج فرض ہو چکنے کے باوُجُود وہ نہ کرپائے تھے تو اب اولاد کو حجِ بدل کا شَرَف حاصل کرنا چاہئے۔حجِ بدلکے تفصیلی اَحکام جاننے کے لئے امیر اہلسنّت مولانا محمد الیاس عطارقادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی کتاب رَفِیقُ الْحَرَمَین صفحہ:208تا 214 کا مطالعہ فرمائیں۔
(3): فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ہے: جب تم میں سے کوئی کچھ نَفل خیرات کرے تو چاہئے کہ اسے اپنے ماں باپ کی طرف سے کرے کہ اس کا ثواب اُنہیں ملے گا اور اِس کے (یعنی خیرات کرنے والے کے) ثواب میں کوئی کمی بھی نہیں آئے گی۔([1]) (4):ایک روایت میں فرمایا:بندہ جب ماں باپ کیلئے دُعا ترک کردیتا ہے اُس کا رِزق قَطع ہوجاتا ہے۔ ([2]) (5):ایک اور حدیثِ پاک میں ہے: جو شخص جمعہ والے دن اپنے والِدَین یاان میں سے کسی ایک کی قبر کی زیارت کرے اور اس کے پاس سورۂ یٰسن پڑھے بخش دیا جائےگا۔([3])
لاج رکھ لے گنا ہ گاروں کی نام رَحمن ہے ترا یاربّ!([4])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! خُلاصۂ کلام یہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں اورہمارا پیارا دِین اسلام ہمیں بھلائی کا دَرْس دیتا ہے، ہمیں چاہئے کہ عام دُنیا داروں کی طرح صِرْف قبر کے گڑھے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami