Share this link via
Personality Websites!
پاک کے بندوں میں کچھ ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ پاک پر کسی کام کی قسم اٹھا لیں تو اللہ پاک ان کی قسم کو ضرور پورا کرتا ہے۔([1])
گُفْتَۂ اُوْ گفتۂ اَللّٰہ بَوَد
گَرْچِہ اَزْ حُلْقُوْمِ عَبْدُ اللّٰہ بَوَد
مفہوم: وَلی کی کہی ہوئی بات حقیقت میں اللہ پاک ہی کا کہا ہوتا ہے۔
بہر حال! پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں چاہئے کہ اللہ پاک نے مال عطا فرمایا ہے، نعمتیں دِی ہیں، ان کے ذریعے دُنیا نہیں بلکہ آخرت کمائیں، اپنی آخرت ہی کی فِکْر کیا کریں۔ کیونکہ حقیقی نعمت وہی ہے جو آخرت کے آرام کا ذریعہ بن جائے ۔
حدیثِ پاک میں ہے: آدمی کہتا ہے: میرا مال! میرا مال! اے اِبْنِ آدم! تیرا مال وہی ہے جو تونے کھا کر فنا کر دیا، پہن کر بوسیدہ کر دیا ، یا صدقہ کر کے آگے بھیج دیا۔([2])
کر زمیں کے نیچے بھی جانے کی فکر کام جو کرنے ہیں کر لے آج بَس
اونچے اونچے یاں تَو بنوائے محل روشنئ قبر کا بھی سامان کر
ایک مرتبہ اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے گھر مبارک میں بکری ذبح کی گئی اور اس کا سارا گوشت تقسیم کر دیا گیا مگر کندھے کا گوشت رکھ لیا گیا، اُمُّ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami