Share this link via
Personality Websites!
یہ ہے شیطان کی چھپی ہوئی سرکشی...!! یہ مردُود باغی طبیعت رکھتا تھا، اس لئے ہمیں چاہئے کہ اس باطنی بیماری سے بھی خُود کو بچائیں...!! بدقسمتی سے آج کل سوشل میڈیا کا استعمال بڑھ رہا ہے، مغربی سوچ اور فِکْر تیزی کے ساتھ ہمارے معاشرے میں سرایت کرتی جا رہی ہے، جس کے سبب ہمارے معاشرے میں اور بالخصوص نوجوان نسل میں باغی طبیعت پیدا ہو رہی ہے، ایک وہ وقت تھا کہ اللہ و رسول کے فرمان کو حرفِ آخر سمجھا جاتا تھا مگر اب مسلمانوں میں ایسے بھی پیدا ہو گئے ہیں جو اللہ و رسول کے فرمان پر سُوالات اُٹھاتے ہیں *اسلام نے نماز کا حکم کیوں دیا ہے؟ *سُود کو حرام کیوں کیا گیا ہے؟ *روزے سے کیا ہوتا ہے؟ *زکوٰۃ اور ٹیکس میں کیا فرق ہے؟ *عورت کو وراثت میں نصف حصّہ کیوں ملتا ہے؟ *پردےکا حکم کیوں دیا گیا ہے؟ *بلکہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ اب ایک مسلمان معاشرے میں میرا جسم میری مرضی کا نعرہ تک لگایا جاتا ہے۔
یہ کیسی سرکشی ہے۔ کتنی بڑی جُرأت ہے۔ اللہ و رسول کے فرمان پر سُوال اُٹھانا، قرآن و حدیث کے احکامات کو اپنی ناقص عقل پر تولنا کہاں کی مسلمانی ہے...!! مسلمان کا تَو معنیٰ ہی سرجھکانے والا ہے۔ جو اللہ و رسول کے فرمان پر بھی سر نہ جھکائے، پِھر وہ کہاں سر جھکائے گا...؟ کیا مَعَاذَ اللہ! شیطان کے پیچھے چلیں گے...؟ سرکشی شیطان ہی کا وَصْف ہے اور جو سرکشی کرتا ہے، وہ اسی کی برادری ہے۔ ہم الحمد للہ! مسلمان ہیں، شیطان ہمارا کھلا دُشمن ہے، ہمیں ہر گز زیب نہیں دیتا کہ اس جیسا وَصْف اپنائیں۔ اس لئے ہمیں ہر لمحہ، ہر وقت، ہر حال میں اللہ و رسول کے فرمان پر سرجھکانا ہے، چاہے وہ فرمان ہماری عقل میں آئے یا نہ آئے ہم نے لبَّیک ہی کہنا ہے۔ سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، رَحْمَةٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami