Share this link via
Personality Websites!
پاک گروہِ مُقَدَّس کا، ایک علّامہ مُعَلِّم تھا قومِ جنّ سے تھا پیدا، تھا اسے غَرَّہ عِبَادت کا
لَااِلٰہَ اِلَّا اللہ اٰمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
جب سجدہ کا حکم ہوا، سب نے کِیا اس نے نہ کیا اور متکبر نے یہ بکا، یہ مٹی میں انگارا
لَااِلٰہَ اِلَّا اللہ اٰمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ
اس کو آب و گِل سوجھا، منکر ہو کر شیطان بنا جن کے سبب وہ حکم ہوا، اس نے وہ نُور نہیں دیکھا
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ اٰمَنَّا بِرَسُوْلِ اللہ([1])
وضاحت: اللہ پاک نے حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلام کو بلند مقام عطا فرمایا، آپ اور آپ کی اَوْلاد کو اَشْرَفُ المخلوقات (یعنی ساری مخلوق میں زیادہ عزّت والا ) بنایا، آپ کو اپنا خلیفہ کیا، یہ ساری عِنایات اس نُورِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے صدقے تھیں، جو اللہ پاک نے حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلام کی پیشانی میں رکھا تھا، اسی نُور کی بَرَکت تھی کہ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلام کو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا، فرشتوں کی اس پاک جماعت میں شیطان بھی تھا، اسے اپنی عبادت پر غرور تھا، جب حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلام کو سجدے کا حکم ہوا تو سب فرشتوں نے سجدہ کیا، شیطان نے نہ کیا، اس بدبخت نے تکبّر کیا، بولا: میں آگ سے بنا ہوں، آدم کو مٹی سے بنایا گیا ہے۔ یہ بدبخت شیطان عقل کا اندھا تھا، اسے یہ تو نظر آیا کہ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلام کا جسم پاک مٹی سے بنایا گیا ہے مگر یہ دِکھائی نہ دیا کہ ان کی پیشانی میں نُورِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم روشن ہے۔
اللہ پاک ہمیں غرور و تکبر سے محفوظ فرمائے، ہمیشہ نیک لوگوں کا، نبیوں، ولیوں کا بااَدب رکھے۔ آمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami