Share this link via
Personality Websites!
حالات میں ہمیں چاہئے کہ صبر سے کام لیں اور سب سے اَہَم ذِمَّہ داری (Responsibility) جو ایسے وقت میں ہم پر عائِد ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ ہم اپنے ایمان کی بھرپُور حفاظت کریں۔ ہم نے کھائی والوں کا قرآنی واقعہ سُنا، اس میں ذرا غور کیجئے! بادشاہ جو خُدائی کا دعویٰ کئے ہوئے تھا، وہ سخت ظالِم تھا، اس نے اَہْلِ ایمان پر ظلم ڈھایا، انہیں زندہ ہی آگ میں ڈال دیا، قربان جائیے! ان پختہ ایمان لوگوں نے آگ میں جلنا، جان دینا تو منظور کر لیا مگر اپنے ایمان سے ذرّہ برابر بھی پیچھے نہیں ہٹے، یہاں تک کہ ایک ماں، اپنے ننھے بچے کو گود میں اُٹھائے ہوئے، بچّے سمیت آگ میں ڈال دی گئی، اس نے بھی موت کو تو گلے لگا لیا مگر اپنے ایمان کا سودا نہیں کیا۔
یہ بڑی کمال کی بات ہے، بڑی ہمّت اور حوصلے کی بات ہے۔اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایک بندۂ مؤمن اپنے ایمان پر ہمیشہ ثابِت قدم رہتا ہے، تکلیفوں اور مصیبتوں میں گھبرا کر ڈَانَواں ڈَول نہیں ہوتا، اس کے دِل میں شک نہیں آتا بلکہ وہ اپنے ایمان پر، اپنے عقیدوں پر، اللہ پاک پر توکل اور بھروسے پر پختہ ہی رہتا ہے، اسے پھولوں کا ہار ملے یا تلوار کا تیز وار ملے، پانی میں غرق کیا جائے یا آگ کے شعلوں میں جھونک دیا جائے، ہر حال میں، ہر صُورت میں استقامت کا پہاڑ بن کر کھڑا رہتا ہے۔
کاش! یہ سعادت، ایسا پختہ ایمان اور یقین ہمیں بھی نصیب ہو جائے، ہمیں بھی دِیْن پر، اسلام پر،ایمان پر استقامت ملی رہے، کاش!اپنے اِیْمان کی حِفَاظت کی سوچ حقیقی معنوں میں نصیب ہو جائے۔ آہ! اس دَور میں ایمان بچانا سخت دُشوار ہو گیا ہے، عِلْمِ دین کی ایسی کمی ہے کہ اللہ کی پناہ...!*کتنے ایسے ہیں جو گانے گا رہے ہیں، گانا سُن رہے ہیں، جھوم رہے ہیں، حالانکہ اس گانے میں کفریہ اَشْعَار ہیں اور انہیں خبر ہی نہیں، بَس اپنی مستی میں مَسْت
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami