Share this link via
Personality Websites!
اَلْحَمْدُ للہ رَبِّ الْعٰلَمِیْن یا اَلْحَمْدُ للہ عَلیٰ کُلِّ حَال کہے*سننے والے پر وَاجِب ہے کہ فوراً (اسی وقت) یَرْ حَمُکَ اللہ (یعنی اللہ پاک تجھ پر رحم فرمائے )کہے اور اتنی آواز سے کہے کہ چھینکنے والا خود سُن لے*جواب سُن کر چھینکنے والا کہے :یَغْفِرُ اللہ ُ لَنَا وَلَکُمْ(یعنی اللہ پاک ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے) یا یہ کہے: یَھْدِیْکُمُ اللہُ، وَ یُصْلِحُ بَالَکُمْ (یعنی اللہ پاک تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال درست کرے )*جو کوئی چھینک آنے پر اَلْحَمْدُ لِلہِ عَلیٰ کُلِّ حَال کہے اور زبان سارے دانتوں پر پھیرلیا کرے تو اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم!دانتوں کی بیماریوں سے محفوظ رہے گا *حضرت مولائے کائنات ، علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں: جو کوئی چھینک آنے پر اَلْحَمْدُ لِلہِ عَلیٰ کُلِّ حَال کہے تو وہ داڑھ اور کان کے درد میں کبھی مبتلا نہیں ہو گا* چھینکنے والے کو چاہیئے کہ زور سے حمد کہے تاکہ کوئی سنے اور جواب دے*چھینک کا جواب ایک مرتبہ واجب ہے، دوسری بار چھینک آئے اور وہ اَلْحَمْدُ للہ کہے تو دوبارہ جواب وَاجِب نہیں بلکہ مُسْتَحَب ہے*جواب اس صورت میں وَاجِب ہوگا ، جب چھینکنے والا اَلْحَمْدُ للہ کہے اور حمد نہ کرے تو جواب نہیں *خُطبے کے وقت کسی کو چھینک آئی تو سننے والا اس کو جواب نہ دے * کئی اسلامی بھائی موجود ہوں تو بعض حاضرین نے جواب دے دیاتو سب کی طرف سے جواب ہو گیا مگر بہتر یہی ہے کہ سب جواب دیں*دیوار کے پیچھے کسی کو چھینک آئی اور اس نے اَلْحَمْدُ للہ کہا تو سننے والا اس کا جواب دے*نماز میں چھینک آئے تو سَکُوت کرے (یعنی خاموش رہے) اور اَلْحَمْدُ للہ کہہ لیا تو بھی نماز میں حرج نہیں اور اگر اس وقت حمد نہ کی تو فارغ ہو کر کہے*آپ نماز پڑھ رہے ہیں اور کسی کو چھینک آئی اور آپ نے جواب کی نیت سے اَلْحَمْدُ للہ کہا تو آپ کی نماز ٹوٹ گئی*کافر کو چھینک آئی اور اس نے اَلْحَمْدُ للہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami