Share this link via
Personality Websites!
طاقت ہوتی نہیں ہے، لوگ اپنے گمان میں اپنے آپ کو طاقت ور تَصَوُّر کر لیتے ہیں۔ مولانا رُوم رحمۃُاللہ علیہ فرماتے ہیں:
نَفْسِ کَسْ رَا فِرْعَوْن نیست لَیْک اُوْ رَا عَوْن کَسْ رَا عَوْن نیست
ترجمہ: کون ہے جس کا نفسِ اَمَّارہ فِرْعَون نہیں، ہاں! فِرْعَوْنِ مِصْر کو تخت ملا تھا، سب کو تخت نہیں ملتا۔
یہ اَصْل بات ہے، جو اپنے اندر سے طاقت و قُوَّت کا یہ نشہ ختم کر لے،میں، میںنہ کرے، اپنے نَفْس کو قابُو میں کر لے یا یُوں کہہ لیجئے کہ اپنے اندر کے فِرْعَون کو مار لے حقیقت (Reality) میں وہ شخص ظُلْم سے بچ سکتا ہے۔مُعَاشَرے (Society)میں غَور کر لیجئے!جو عاجزی والا ہوتا ہے، وہ کبھی دوسروں کو تکلیف نہیں پہنچاتا،اگر جانے انجانے میں کبھی کسی کو کچھ کہہ بھی بیٹھے تو جلدی سے معافی مانگ لیتا ہے اور جو عاجزی والا نہیں ہوتا، جو اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہے، وہ بات بات پر آستینیں چڑھانے کو دوڑتا ہے۔
اس لئے ہمیں اپنے اندر کے فِرْعَون (یعنی نَفْسِ اَمّارہ) کو قابُو میں کرنا پڑے گا، عاجزی اپنانی ہو گی۔ حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلام اللہ پاک کے نبی ہیں،آپ کا مشہور درباری پرندہ ہے: ہُدہُد۔ ایک بار ہُدہُد حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلام کی اجازت کے بغیر کہیں چلا گیا، ہُدہُد کی اس حرکت سے حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلام سخت ناراض ہوئے اور فرمایا: ہُدہُد واپس آئے گا تو میں اسے سزا دُوں گا۔جب ہُدہُد واپس آیا اور دیکھا کہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلام جلال میں ہیں تو اس نے عاجزی کی،اپنے پروں کو زمین پر گھسیٹتے ہوئے حاضِر ہوا اَور موقع دیکھ کر، ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے قیامت کے دِن بارگاہِ اِلٰہی میں پیشی کا ذِکْر کر دیا، بَس قیامت
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami