Share this link via
Personality Websites!
کی ضمانت دیتا ہے ۔آخری نبی، مکی مَدَنی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُہٗ وَمَالُہٗ وَعِرْضُہٗ یعنی ہر مسلمان کا خون ،مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔([1])
مشہور مُفَسِّر قرآن حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃُاللہ علیہ اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں:کوئی مسلمان کسی مسلمان کا مال بغیر اس کی اجازت نہ لے ، کسی کی بے عزتی نہ کرے، کسی مسلمان کو ناحق اور ظُلمًا قتل نہ کرے کہ یہ سب سخت جُرْم ہیں۔([2])
مفتی صاحب ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:مسلمان کو نہ تو دل میں حقیر جانو!نہ اُسے حقارت کے الفاظ سے پکارو ! یا بُرے لَقَب سے یاد کرو !نہ اس کا مذاق بناؤ ! آج ہم میں یہ عیب بہت ہے ، پیشے(Profession)، نسب یا غربت و اِفلاس وغیرہ کی وجہ سے مسلمان بھائی کو حقیر جانتے ہیں کہ وہ پنجابی ہے ، وہ بنگالی ، وہ سندھی ، وہ سرحدی ، اسلام نے یہ سارے فرق مٹا دیئے۔ شہد کی مکھی مختلف پھولوں کے رس چوس لیتی ہے تو ان کا نام شہد ہو جاتا ہے ۔ مختلف لکڑیوں کو آگ جلا دے تو اس کا نام راکھ ہو جاتا ہے ۔یوں ہی جب حضور ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کا دامن پکڑ لیا تو سب مسلمان ایک ہوگئے ، حبشی ہو یا رُومی !([3])
دامنِ مصطفےٰ سے جو لپٹا یگانہ ہوگیا
جس کے حضور ہوگئے اس کا زمانہ ہوگیا
طَبَرانِی شریف میں ہے،رسولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami