Share this link via
Personality Websites!
یعنی پہلے مال و دولت کا لالچ دے کر ان سے ایمان چھیننے کی کوشش کی گئی تھی، اب حُسْن و جمال کا پھندا ڈالا جا رہا تھا مگر یہ نوجوان اللہ پاک کا نیک اور باحیا بندہ تھا، 40 دِن بلکہ اس سے بھی زیادہ عرصہ وہ حسین و جمیل لڑکی ان کے ساتھ رہی مگر انہوں نے کبھی اسے آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھا بلکہ ان کا معمول رہا کہ دِن کو روزہ رکھتے اور رات بھر نوافِل پڑھتے رہتے۔ آخر اس کامِل ایمان والے نوجوان کا کردار، ثابت قدمی اور حیا کودیکھ کر وہ لڑکی بہت متاثِّر ہوئی، اسے ذِمَّہ داری دی گئی تھی ایمان چھیننے کی لیکن مسلمان نوجوان کا اَخْلاق دیکھ کر خُود بھی دائرۂ اسلام میں داخِل ہو گئی۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے ان تینوں بھائیوں نے ایمان پر استقامت کا کیسا زبردست مُظَاہِرہ کیا، ان کے دلوں میں ایمان کس قدر سمایا ہواتھا،یہ عشق کے صرف زبانی دعوے کرنے والے نہیں صحیح معنوں میں مُخْلِص عاشقانِ رسول تھے۔ دونوں بھائی جامِ شہادت نوش کر کے جَنَّتُ الْفِردَوس کی نعمتوں کے حقدار بن گئے اور تیسرے نے روم کی حسینہ کی طرف دیکھا تک نہیں اور دن رات اللہ پاک کی عبادت میں مصروف رہا۔
کاش!ہمیں بھی ایمان پر ایسی استقامت نصیب ہو جائے،مشکل آئے،پریشانی آئے، غربت و تنگدستی آئے،لوگ ستائیں، طعنے دیں، کچھ بھی ہو جائے، ہم کبھی بھی ایمان کا سودا نہ کریں۔
مٹا میرے رنج و الم یاالٰہی عطا کر مجھے اپنا غم یااِلٰہی
شرابِ محبّت کچھ ایسی پلا دے کبھی بھی نشہ ہو نہ کم یااِلٰہی
مجھے دیدے ایمان پر استقامت پئے سیدِ محتشم یا اِلٰہی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami