Share this link via
Personality Websites!
بھی آپ کو بتا دیا گیا تھا۔([1])
اللہ! اللہ! کیا شانِ علمی ہے...!!اس عِلْمُ الْاَسْمَاء کی مزید وضاحت سنیئے! حکیمُ الاُمّت مفتی اَحمد یار خان نعیمی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ لکھتے ہیں: دُنیا میں اَوَّل سے آخرت تک لاکھوں زبانیں بولی گئیں اور ہر زبان کے حروف اور الفاظ علیحدہ علیحدہ ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دُنیا میں کروڑوں چیزیں ہیں اور ہر چیز کی لاکھوں صفات اور ہر صفَت کے لاکھوں نام، پِھر نام کے لکھنے اوربولنے کے لاکھوں طریقے ہیں مثلاً پانی کو اُردو میں پانی، فارسی میں آب،عربی میں مَاءٌ،ہندی میں جَل، انگریزی میں واٹر اور نہ جانے کس کس زبان میں کیا کیا کہتے ہوں گے؟ پِھر اس پانی کی ہزاروں حالتیں اور اَقْسام ہیں، مثلاً ٹھنڈا، گرم، صاف، میلا، کھاری،میٹھا، بھاری، ہلکا، گاڑھا، پتلا، سفید، کالا وغیرہ (مختلف زبانوں میں ان سب حالتوں کے الگ الگ نام ہیں) یہ سب عُلُوم حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلام کو دئیے گئے ([2])اور عُلَما نے لکھا کہ آدم عَلَیْہِ السَّلام کو 7لاکھ زبانوں کا عِلْم دیا گیا اور آپ ایک ہزار پیشوں میں خوب ماہِر تھے۔([3])
اللہ اکبر! ذرا خیال تو کریں کہ اس عِلْم کی کوئی حَدْ بھی ہے...!! امام رازی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے اس عِلْمُ الْاَسْمَاء کی وُسعت سے مزید پردہ اُٹھایا، آپ فرماتے ہیں: اَسْمَاء اِسْم کی جمع ہے اور اِسْم کا ایک معنیٰ پہچان بھی ہوتا ہے، اب مطلب یہ بنے گا کہ اللہ پاک نے حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلام کو تمام چیزوں کی حقیقتوں کا بھی عِلْم دیا([4]) مثلاً پانی کا فارمولا کیا ہے؟ H2O یعنی 2حِصّے ہائیڈروجن اور ایک حصَّہ آکسیجن ہو تو پانی بنتا ہے، یہ پانی کی حقیقت ہے، اسی طرح
[1]... تفسیر روح البیان، پارہ:1، سورۃ البقرۃ، زیر آیت:31، جلد:1، صفحہ:100 خلاصۃً، دار احیاء التراث۔
[2]... تفسیر نعیمی، پارہ:1، البقرۃ، زیر آیت:31،جلد:1، صفحہ:230۔ مکتبہ اسلامیہ
[3]... تفسیر روح البیان، پارہ:1، سورۃ البقرۃ، زیر آیت:31، جلد:1، صفحہ:100 ملتقطًا، دار احیاء التراث۔
[4]... تفسیر کبیر، پارہ:1،البقرۃ، زیر آیت:31، جلد:2، صفحہ:192 خلاصۃً۔دارالفکر بیروت۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami