Share this link via
Personality Websites!
دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میں انتہائی بگڑے ہوئے اخلاق کا مالک تھا،سکول کے دوستوں کیساتھ مل کر کبھی بس کنڈیکٹر سے جھگڑا کرتے تو کبھی اسٹوڈنٹ سے۔ سکول کے تمام ہی طلبا میری ان حرکتوں سے تنگ آچکے تھے۔ ایک مرتبہ ایک اسلامی بھائی نے میرے والِد صاحِب سے سفارش کی کہ اپنے بیٹے کو دعوتِ اسلامی کے جامعۃ المدینہ میں داخل کروا دیجئے! اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! چندسالوں بعد ہی آپ کا بیٹا باعمل عالمِ دین بن کر ابھرے گا اور اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ دنیابھر کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنے والا بن جائے گا۔ سب سے بڑھ کریہ کہ آخرت میں آپ کی نَجات کا ضَامِن ہوگا۔ بس پھر کیا تھا، انہوں نے فوراً مجھے جامعۃ المدینہ میں داخل کروادیا۔جامعۃ المدینہ میں داخلہ لینے کے بعد سے میری اخلاقیات میں روز بروز بہتری آنے لگی، لڑائی جھگڑوں سے بچتے ہوئے آپس میں محبت سے رہنے کا ذہن بن گیا، نمازوں کی پابندی کے ساتھ ساتھ عِلْمِ دین کا خزانہ لوٹنے کی سعادتیں حاصل ہونے لگیں۔ یُوں عِلْمِ دِین کی برکت سے ایک بگڑا ہوا شخص سدھر کر نیک نمازی بن گیا۔
دعوتِ اسلامی کی قیُّوم اِک اِک گھر میں مچ جائے دھوم
اس پہ فدا ہو بچہ بچہ یااللہ! میری جھولی بھر دے
پیارے اسلامی بھائیو! یہ عِلْمِ دِین کی برکات ہیں، ہمیں بھی چاہئے کہ عِلْمِ دِین سیکھنے والے بن جائیں۔ حضرت سفیان ثوری رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ بہت بڑے عالِمِ دین اور ولئ کامِل ہوئے ہیں، آپ فرماتے ہیں: عِلْم سیکھو! مجھے خوف ہے کہ یہ عِلْم تم سے نکل کر غیروں کے پاس چلا گیا( تو تم ذلیل ہو جاؤ گے۔) عِلْم سیکھو! کہ یہ دُنیا و آخرت کی عزّت ہے۔([1])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami