Share this link via
Personality Websites!
دینا اور دیگر فضول سوالات کرنا مریض کے لئے کوفت کا سبب بن جاتے ہیں، بہر حال عیادت کرنے میں مریض کی کیفیت کا خیال رکھنا ضروری ہے اور اگر یہ محسوس ہو کہ ہماری موجودگی مریض کے لئے تکلیف کا سبب ہے تو جلد وہاں سے روانہ ہو جانا چاہئے۔
پیارے اسلامی بھائیو!عِیَادت کے لئے بہترین وقت کاانتخاب کرنا بھی ضروری ہے، ظاہِر ہے جس کی عِیادت کے لئے جا رہے ہیں، وہ بےچارہ بیمار ہے اور بیماری کی حالت میں سو قسم کے معاملات ہوتے ہیں، ایسے میں اگر ہم مریض کے پاس جائیں اور اُٹھنے کا نام ہی نہ لیں تو ہو سکتا ہے بےچارہ تکلیف میں آ جائے، ایسے ہی بےوقت جانا بھی مریض کو تکلیف میں مبتلا کر سکتا ہے۔حضرت شعبی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بے وقوف لوگوں کا مریض کی عیادت کرنا اس کے گھر والوں پر اس کے مرض سے بھی زیادہ بھاری ہوتا ہے ، کیونکہ وہ بے وقت آتے ہیں اور دیر تک بیٹھے رہتے ہیں۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو!مریض کی عیادت کے چند مزید آداب بھی ہیں؛مثلاً *کسی کی عیادت کے لئے جائیں اور مرض کی سختی دیکھیں تو اُس کو ڈرانے والی باتیں نہ کریں مثلاً تمہاری حالت خراب ہے اور نہ ہی اِس انداز پر سَر ہلائیں جس سے حالت کا خراب ہونا سمجھا جاتا ہے*عیادت کے موقع پر مریض یا دُکھی شخص کے سامنے اپنے چہرے پر رنج و غم کی کیفیت نمایاں کیجئے* بات چیت کا انداز ہرگز ایسا نہ ہو کہ مریض یا اُس کے عزیزکو
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami