Share this link via
Personality Websites!
بندر اور خنزیر نہیں بنایا جاتا مگر یاد رکھئے! اللہ پاک کی نافرمانی کا نتیجہ تو بہرحال نکلتا ہی ہے۔ عُلَمائے کرام فرماتے ہیں: گزشتہ اُمّتوں کا عذاب جسمانی خَسْف و مَسْخ تھا (یعنی پہلی اُمّتیں نافرمانی کرتیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جاتا تھا، ان کے چہرے بگاڑ دئیے جاتے تھے، کوئی بندر بن جاتا، کوئی خنزیر بن جاتا تھا) لیکن اس اُمّت کا عذاب روحانی خَسْف و مَسْخ ہے، پہلے جسم بدلتے تھے، اب دِل بدل دئیے جاتے ہیں۔([1])اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
وَ نُقَلِّبُ اَفْـٕدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ (پارہ:7،الاَنْعَام:110)
ترجمہ کنزُ العِرفان:اور ہم ان کے دلوں اور ان کی آنکھوں کو پھیر دیں گے۔
اللہ پاک کی پناہ! اللہ پاک کی پناہ! پیارے اسلامی بھائیو! خُود غور فرمائیے! جس بندے پر اللہ پاک کی لعنت برس رہی ہو، جس کے لئے جانورتک لعنت برسنے کی دُعائیں کر رہے ہوں، جس کا دِل ہی اُلٹ دیا گیا ہو، ایسا شخص دُنیا کی ذِلّت اور آخرت کے عذاب سے کیسے بچ پائے گا؟ اس کے دِل میں عِلْم و حکمت کا نُورکس طرح سما سکے گا؟ اس لئے ہم سب پر لازم ہے کہ گُنَاہوں سے، اللہ پاک کی نافرمانیوں سے،نمازیں چھوڑنے، جماعت سے ناغہ کرنے، سودی لین دین، جھوٹ، غیبت، چغلی، وعدہ خلافی وغیرہ گُنَاہوں سے ہر دَم بچتے رہیں، اس کی بَرَکت سے اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! دِل میں ایمان کا نُوراُترے گا، سینہ روشن ہو گا، پِھر اللہ پاک نے چاہا تو سجدوں میں لذّت بھی آئے گی اور تِلاوت میں دِل بھی لگا کرے گا۔ اس لئے آج وقت ہے، اچھا یہی ہے کہ آج بلکہ ابھی سچی پکّی توبہ کر لیں، گُنَاہ چھوڑ دیں اور پکّی نیت کر لیں کہ * اب کبھی گُنَاہ نہیں کریں گے * اب ہماری کوئی نماز قضا نہیں ہو
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami