Share this link via
Personality Websites!
جانور جو ہم سے کئی درجے کمتر ہیں، وہ بھی انسان کو بُرا بھلا کہتے ہیں۔ معلوم ہوا؛ جو نافرمان ہے، وہ اپنی فضیلت کھو بیٹھتا ہے اور درجۂ انسانیت سے گِر کر ذِلّت کے گہرے گڑھے میں جا پڑتا ہے۔
نافرمان پر اللہ پاک کی لعنت
حضرت وَہب رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ سے روایت ہے، اللہ پاک نے انبیائے بنی اسرائیل میں سے کسی نبی علیہ السَّلام کی طرف وحی فرمائی: بندہ جب میری اطاعت کرتا ہے تو میں اس سے راضی ہو جاتا ہوں اور جب میں اس سے راضی ہو جاتا ہوں تو اسے برکتیں عطا فرماتا ہوں۔ جب بندہ میری نافرمانی کرتا ہے تو میں اس سے ناراض ہو جاتا ہوں اور جب میں اس سے ناراض ہو جاتا ہوں تو اس پر لعنت برساتا ہوں اور میری لعنت اس کی 7پشتوں تک پہنچتی ہے۔([1])
گر تُو ناراض ہوا میری ہلاکت ہوگی ہائے! میں نارِجَہنَّم میں جلوں گا یَارَبّ!
عَفو کر اور سدا کے لئے راضی ہوجا گر کرم کر دے تَو جنّت میں رہوں گا یَارَبّ! ([2])
اے عاشقان ِ رسول! اللہ پاک کا فضل ہے، ہمارے پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا کرم ہے کہ اللہ پاک اپنے محبوب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے صدقے میں آپ کی اُمَّت کورُسوا نہیں کرتا، ہم گُنَاہ بھی کرتے ہیں تو ہم پر پہلی قوموں کی طرح اجتماعی عذاب نہیں آتے، ہمارے چہرے نہیں بگاڑے جاتے، اس اُمّت کو پہلی اُمّتوں کی طرح
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami