Share this link via
Personality Websites!
وحی بھیجی، فرمایا: اے موسیٰ!کھیتی باڑی کرو! حضرت موسیٰ علیہ السَّلام نے کھیتی باڑی کی (مثلاً گندم اُگائی)۔ اللہ پاک نے فرمایا: اے موسیٰ! اب اسے کاٹو! حضرت موسیٰ علیہ السَّلام نے کٹائی کر دی۔ اب حکم ہوا: دانا اور بھوسا الگ الگ کرو! حضرت موسیٰ علیہ السَّلام نے یہ حکم بھی پُورا کر دیا۔ اب ارشاد ہوا: دانے صاف کرو! دانے صاف کر دئیے گئے۔ اب اللہ پاک نے فرمایا: اے موسیٰ!باقی کیا رہ گیا؟ عرض کیا: خالی بھوسا رہ گیا، جس میں کچھ بھلائی نہ تھی۔ اللہ پاک نے فرمایا: اے موسیٰ! اسی طرح میں بھی اپنی مخلوق میں سے صِرْف اسے ہی عذاب دُوں گا جس میں کچھ بھلائی نہیں ہو گی۔ ([1])
اللہُ اکبر! یہ ہے خاسِر بندہ، نقصان اُٹھانے والا بندہ، اللہ پاک کی رحمت سے محروم بندہ...!! اس کی حیثیت کیا ہے؟ یہ خالی بھوسے کی طرح ہے، جس میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔ اللہ پاک ہمیں ایسے خسارے سے محفوظ فرمائے! 3عیب ہیں جو آدمی کوایسا بےوَقعت بنا دیتے ہیں:
(1):اللہ پاک کی نافرمانی
پہلاعیب ہے: اللہ پاک کی نافرمانی کرنا، اس نے جو کرنے کا حکم دیا، وہ نہ کرنا، جو نہ کرنے کا حکم دیا، اُن کاموں میں پڑ جانا۔ یاد رکھئے! اللہ و رسول کی نافرمانی ذِلَّت و رُسوائی کا سبب ہے، جو بندہ اللہ پاک کی نافرمانیاں کرتا رہتا ہے، توبہ نہیں کرتا، اللہ پاک کی طرف رجوع نہیں لاتا، وہ اللہ پاک کی بارگاہ میں ذلیل و رُسوا ہو جاتا ہے اور بارگاہِ اِلٰہی میں اس کی کوئی وَقعت باقی نہیں رہتی اور جو بندہ اللہ پاک کی بارگاہ میں ذلیل و رُسوا ہو جائے، جس کی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami