Share this link via
Personality Websites!
ہیں۔([1]) یہ بہت بڑی محرومی ہے۔ آپ اندازہ کیجئے! اللہ پاک رحمٰن ہے، رحیم ہے، کریم ہے، انتہائی مہربان ہے،حدیثِ پاک کے مطابق اللہ پاک کی 100 رحمتیں ہیں، ان میں سے صِرْف ایک رحمت کا ظہور اس دُنیا میں ہے۔ ماں اپنے بچوں سے، باپ اپنی اولاد سے، بھائی، بہن، عزیز رشتے دار آپس میں یہاں تک کہ ننھی سی چڑیا اپنےننھے بچوں سے جو محبّت کرتی ہے، وہ اللہ پاک کی اسی ایک رحمت کے سبب سے ہے اور روزِ قیامت اللہ پاک کی 100 کی 100 رحمتوں کا ظہور ہو گا۔([2]) اتنی زیادہ رحمتوں کے باوُجُود جو بندہ اللہ پاک کی رحمت سے محروم ہو جائے، جہنّم کا حق دار بن جائے، وہ کس قدر نقصان اُٹھانے والا ہے۔
جس کو اللہ پاک ہی کی رحمت نصیب نہ ہو، اسے اَور کہاں پناہ ملے گی؟ وہ کیسے اپنے آپ کو دُنیا کی ذِلّت اور آخرت کے عذاب سے بچا پائے گا؟ اس لئے جو خاسِر ہے، وہ بہت زیادہ نقصان میں ہے اور ایسے شخص کی حیثیت کیا ہوتی ہے؟ اس تعلق سے ایک روایت سنیئے!
حضرت سعید بن جُبَیْر رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السَّلام سے عرض کیا: جب اللہ پاک نے مخلوق کو پیدا فرمایا ہے تو پِھر انہیں عذاب کیوں دے گا؟
(یہ بہت اَہَم سوال ہے، ہمارے ہاں بھی لوگ بعض اوقات ایسے سوالات کیا کرتے ہیں کہ جب اللہ پاک رحمٰن ہے، ماں سے بڑھ کر مہربان ہے تو اپنے بندوں کو عذاب کیوں فرمائے گا؟اس سوال کا جواب سنیئے!) جب بنی اسرائیل نے سوال کیا تو اللہ پاک نے حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کی طرف
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami