Share this link via
Personality Websites!
اور تیسرا عیب ہے:
وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-
ترجمہ کنزُ العِرفان:اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔
زمین میں فساد پھیلانے کی مختلف صُورتیں ہیں، مختصر یہ کہ ہر وہ عمل، ہر وہ کام، کلام،حرکت جو ہمارے گھر میں، گلی میں، محلے میں، معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنے، ایسے کام کرنا زمین میں فساد پھیلانے میں شامِل ہے۔ مثلاً * کوئی شخص اعلانیہ گُنَاہ کرتا ہے، اسے دیکھ کر دوسرے لوگ بھی اس کی نقل کرتے ہیں، یہ بھی زمین میں فساد کی ایک صورت ہے کہ اس کے سبب سے لوگ گُنَاہوں کی طرف مائِل ہوئے * ایسے ہی خِلافِ اسلام باتوں کی تبلیغ کرنا * سوشل میڈیاکے ذریعے، یوٹیوب، واٹس ایپ یا فیس بک وغیرہ کے ذریعے لوگوں کو گُنَاہوں پر اکسانا * ذہنوں میں فتور بھرنا * لوگوں کو اللہ و رسول کا نافرمان بنانا * نبیوں، ولیوں کی بےادبی پر ابھارنا * قتل و غارت، ظلم و جبر وغیرہ کرنا یا * اس کی ترغیب دِلانا وغیرہ سب زمین میں فساد پھیلانے کی صُورتیں ہیں۔
یہ کل 3عیب ہوئے: (1):اللہ پاک کی نافرمانی کرنا (2):قطع رحمی کرنا (یعنی عزیز رشتے داروں سے تعلق توڑنا) (3):زمین میں فساد پھیلانا۔ جس بندے میں یہ 3عیب ہوں، اس کی ایک سزا تو یہ ہوئی کہ ایسا بُرا شخص گمراہی میں جا پڑتا ہےاور دوسری سزا یہ کہ
اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ
ترجمہ کنزُ العِرفان:تو یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔
خَاسِر کا لفظی معنی ہے: نقصان اُٹھانے والا۔ وہ بندہ جو اپنے اعمال کی وجہ سے اپنے آپ کو اللہ پاک کی رحمت سے محروم کر لے، اسے خاسِر یعنی نقصان اُٹھانے والا کہتے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami