Share this link via
Personality Websites!
ترجمہ کنزُ العِرفان:وہ لوگ جو اللہ کے وعدے کو پختہ ہونے کے بعد توڑڈالتے ہیں۔
(1):یہ پہلا عیب ہے:اللہ پاک سے وعدہ کر کے توڑ ڈالنا۔ اللہ پاک کا وعدہ کیا ہے؟ اسے توڑنے کا کیا مطلب ہے؟ اس کا ایک معنیٰ عُلَمائے کرام رحمۃُ اللہِ علیہم نے بیان فرمایا کہ اللہ پاک کے وعدے سے مراد ہے: اس کے احکام اور اس وعدے کو توڑنے کا مطلب ہے: اللہ پاک کی نافرمانی کرنا۔([1]) مثلاً اللہ پاک نے نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے تو نماز نہ پڑھنا، اللہ پاک نے روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے تو روزہ نہ رکھنا، اسی طرح اورجتنے احکام ہمیں دئیے گئے، ان کو بجا نہ لانا، جتنی باتوں سے ہمیں منع کیا گیا، ان سے نہ رُکنا اللہ پاک سے کئے گئے وعدے کو توڑنا ہے۔
مزید ارشاد ہوتا ہے:
وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ
ترجمہ کنزُ العِرفان:اور اس چیز کو کاٹتے ہیں جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔
(2):یہ دوسرا عیب ہے: ہر وہ رشتہ، ہر وہ تعلق جسے اللہ پاک نے جوڑنے کا حکم دیا ہے، اسے توڑ دینا۔([2]) مثلاً ہمیں والدین کے ساتھ رشتہ نبھانے کا حکم ہے، والدین کے ساتھ تعلق توڑنا، بہن بھائیوں کے ساتھ نیک سلوک کا حکم ہے، ان سے تعلق توڑنا، دیگر عزیز رشتے دار مثلاً چچا، تایا، پھوپھی، خالہ وغیرہ سے تعلق نبھاتے رہنے کا حکم ہے، ان سے قطع رحمی کرنا وغیرہ سب اس میں شامِل ہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami