Share this link via
Personality Websites!
وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(27)
صَدَقَ اللہُ الْعَظِیْم وَ صَدَقَ رَسُوْلُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیْم صلّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم
پیارے اسلامی بھائیو! ہم نے پارہ:1، سورۂ بقرہ کی آیت:27 سننے کی سعادت حاصِل کی، اس سے پچھلی آیتِ کریمہ میں بتایا گیا تھا کہ قرآنِ کریم سے، قرآنِ کریم میں بیان کی گئی مثالوں سے ہر کوئی ہدایت نہیں پاتا، بہت سارے لوگ قرآنی مثالیں پڑھ کر الٹا گمراہی میں بڑھ جاتے ہیں۔ وہ کون لوگ ہیں جو ایسی بلند رتبہ کتابِ ہدایت سے بھی ہدایت نہیں لے پاتے؟ اس آیتِ کریمہ میں ایسے بدبخت لوگوں کے 3عیب بیان کئے جا رہے ہیں۔
اس سے پہلے کہ ہم آیت کریمہ کی وضاحت سنیں ہمیں ایک بات یاد رکھ لینی چاہئے کہ یہ 3عیب معمولی نہیں ہیں بلکہ ایسے خطرناک عیب ہیں کہ جس میں یہ پائے جائیں، (1):تو پہلے نمبر پر وہ بندہ قرآنِ کریم جیسی کتابِ ہدایت سے ہدایت نہیں لے پاتا، الٹا گمراہی میں بڑھ جاتا ہے اور (2):دوسرے نمبر پر ایسا آدمی اللہ پاک کی رحمت سے محروم اورسخت نقصان اُٹھانے والا بھی ہے۔ اس لئے قرآنِ کریم کی روشنی میں ہم نے ان 3عیوب کو توجہ کے ساتھ سننا بھی ہے اور ساتھ ہی یہ پکّا ارادہ بھی کرنا ہے کہ ہم ان 3عیبوں سے ہمیشہ بچتے رہیں گے۔ آئیے! قرآنی آیت سننے اور اسے سمجھنے کی سعادت حاصِل کرتے ہیں:
اللہ پاک نے فرمایا:
الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami