Share this link via
Personality Websites!
ہاتھ سے بُرائی ظاہِر ہوتی ہے، اس کی سوچ بھی بُرائی پر مبنی ہوتی ہے، غرض یہ خود بھی بُرا ہے اور دوسروں تک بھی بُرائی ہی پہنچاتا ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو! یہ 2 طرح کے لوگ ہیں، جو بھلائی کی چابی ہے (یعنی نیکی کرنے اور نیکیاں پھیلانے والا ہے)، اس کے لئے خوشخبری ہے اور جو بُرائی کی چابی ہے (یعنی خُود بھی بُرا ہے اور بُرائی ہی پھیلایا کرتا ہے، اس کے عمل سے، کردار سے، باتوں سے دوسروں کو بُرائی کی ترغیب ملتی ہے)، اس کے لئے ہلاکت ہے۔ اب ہم غور کر لیں کہ ہمارا شمار کن میں ہوتا ہے، ہمیں دیکھ کر لوگ بُرائی سیکھتے ہیں یا ہمارے ذریعے بھلائی پھیلتی ہے؟ اگر ہم ہلاکت سے بچنا چاہتے ہیں، اللہ پاک کے حُضُور، اپنے گھر میں، معاشرے میں اپنی کچھ وقعت بناناچاہتے ہیں تو اس کے لئے اپنی زندگی کا ایک اُصُول بنا لیں کہ آپ کے ذریعے کبھی بھی کسی کو بھی کسی بھی طرح کی بُرائی کی ترغیب نہ مِلے، آپ کی باتیں، آپ کا عمل، آپ کا کردار، آپ کی چال ڈھال، انداز، طور طریقے صِرْف و صِرْف بھلائی ہی پر مبنی ہوں۔
Don’t be the key to evil be a lock
بُرائی کی چابی نہیں بلکہ تالا بنو!
خُلاصۂ کلام یہ ہے کہ وہ لوگ جو قرآنِ کریم پڑھ کر بھی ہدایت نہیں لے پاتے، جو نقصان اُٹھانے والے ہیں، اللہ پاک کی رحمت سے محروم رہنے والے ہیں، ان کے 3بڑے عیب ہیں: (1):اللہ پاک کی نافرمانی کرتے ہیں (2):رشتے توڑتے ہیں (3):زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔ ہم الحمد للہ! مسلمان ہیں، رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami