Share this link via
Personality Websites!
دعوت دی گئی، گُنَاہوں سے منع کر دیا گیا، اب گُنَاہ و سرکشی کر کے، دوسروں کو گُنَاہوں کی طرف بُلا کر زمین میں فساد مت پھیلاؤ! ([1])
خادِمِ مصطفےٰ، صحابئ رسول حضرت اَنس بن مالِک رَضِیَ اللہُ عنہ سے روایت ہے، اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشِمی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: بےشک لوگوں میں کچھ وہ ہیں جو بھلائی کی چابیاں ہیں اور بُرائی کا تالا ہیں اور کچھ وہ لوگ ہیں جو بُرائی کی چابیاں اور بھلائی کا تالا ہیں، پس خوشخبری ہے اس شخص کے لئے جس کے ہاتھ پر اللہ پاک نے بھلائی کی چابیاں رکھ دی ہیں اور ہلاکت ہے اس شخص کے لئے جس کے ہاتھ پر اللہ پاک نے بُرائی کی چابیاں رکھ دی ہیں۔([2])
اس حدیثِ پاک میں 2 طرح کے لوگوں کا ذِکْر ہے (1): وہ شخص جو بھلائی کی چابی اور بُرائی کا تالا ہے۔ عَلَّامہ مُناوی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا: اس شخص کی یہ شان ہے کہ اسے دیکھ کر لوگوں کو نیکی یاد آتی ہے، یہ جہاں جاتا ہے، نیکیوں کی دُھوم ڈال دیتا ہے، بولتا ہے تو اس کے منہ سے نیک باتیں نکلتی ہیں، سوچتا ہے تو نیکی کی بات سوچتا ہے، اس کا باطِن بھی نیکی پر ہوتا ہے یہاں تک کہ جو بندہ اس کی صحبت میں بیٹھ جائے، وہ بھی نیک بَن جاتا ہے([3]) (2):اور دوسرا وہ شخص ہے جو بُرائی کی چابی اور بھلائی کا تالا ہے یعنی یہ پہلے والے کے بالکل اُلٹ ہے، یہ جہاں جاتا ہے، بُرائی کا بیج بوتا ہے، اس کی زبان سے بُرائی نکلتی ہے، اس کے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami