Share this link via
Personality Websites!
استعمال کی کھلی چُھوٹ دی ہوئی ہے، خُود بھی انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرتا ہے، اَوْلاد کو بھی مواقع فراہم کرتا ہے، کیا یہ گُنَاہوں کو رواج دینے کی صُورتیں نہیں ہیں؟ * ایسے ہی اِعْلانیہ گُنَاہ کرنا اور انہیں فیشن کا نام دینا، جو اس گُنَاہ کو نہ اپنائے، اسے طعنے دینا، اس پر طنزیہ جملے کسنا * دوستوں کے سامنے گُنَاہ کر کے انہیں اس کی عملی ترغیب دِلانا، چھوڑو یار اب نیکی کا زمانہ نہیں ہے! * جُھوٹ کے بغیر اب گزارا ہی نہیں ہوتا * سُودی لین دین نہ کریں تو کیا بھوکے مر جائیں؟ * اُوپَر سے نیچے تک ہر جگہ سُود ہی سُود ہے، ہم اس سے بچ بھی کیسے سکتے ہیں؟ * آج کل دھوکے بازی ہی سے کام چلتے ہیں، اتنا سیدھا بن گئے تو کھاؤ گے کہاں سے وغیرہ وغیرہ جملے ہمارے ہاں بولے جاتے ہیں، اس طرح کے جملے بول کر دوسروں کو گُنَاہوں پر اُکسایا جاتا ہے، یہ بھی گُنَاہوں کو رواج دینے ہی کی صُورت ہے * اسی طرح ٹی وی چینلز، یوٹیوب، فیس بک،سوشل میڈیاوغیرہ کے ذریعے گُنَاہوں کو پروموٹ کرنا، ان کی ترغیب دِلانا، بےپردگی، طنز بازی، مذاق مسخری، گانے باجے وغیرہ کو ماڈرن زمانے کی ضرورت قرار دینا وغیرہ یہ سب گُنَاہوں کو رواج دینے کی صُورتیں ہیں جو ہمارے ہاں عام پائی جاتی ہیں۔
اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا (پارہ:8، الاعراف:56)
ترجمہ کنزُ العِرفان:اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو
یعنی اللہ پاک نے رسول بھیجے، شریعت کے احکام بیان کر دئیے گئے، نیک کاموں کی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami