Share this link via
Personality Websites!
ہاتھوں ہاتھ پھوپھی سے صُلح کرلی
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عنہ صحابئ رسول ہیں۔ آپ لوگوں کو دَرْس دیا کرتے تھے، ایک دِن آپ لوگوں کو حدیثیں سُنا رہے تھے، اس دوران فرمایا: ہر قاطِعِ رحم (یعنی رشتے داری توڑنے والا) ہماری محفل سے اُٹھ جائے۔ یہ اعلان سُن کر ایک نوجوان اُٹھا اور اپنی پھوپھی جس کے ساتھ اس کا کئی سال پُرانا جھگڑا چل رہا تھا، اس کے ہاں چلا گیا، جاکرمعافی تلافی کی، پھوپھی کو راضی کر لیا۔ جب دونوں آپس میں راضی ہو گئے تو پھوپھی نے کہا: بیٹا! تم جا کر حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عنہ سے سبب پوچھو کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟ (یعنی حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عنہ کے اِعْلان کی حکمت کیا ہے؟) نوجوان نے حاضِر ہو کر حکمت پوچھی تو حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عنہ نے فرمایا: میں نے حُضُور انور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سے سنا ہے: جس قوم میں قاطِعِ رحم (یعنی رشتے داری توڑنے والا) ہو، اس قوم پر اللہ پاک کی رحمت نہیں اُترتی۔([1])
اللہ! اللہ! غور فرمائیے! صحابئ رسول ہیں، لوگوں کے درمیان تشریف فرما ہیں اور بیان کیا کر رہے ہیں؟ رحمتِ دوجہان صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی مبارک حدیثیں...!! ایسی محفل پر بھی رحمتیں نہیں اُتریں گی تو پِھر کہاں اُتریں گی مگر حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عنہ کو خطرہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس محفل میں کوئی قاطِعِ رحم (یعنی رشتے توڑنے والا) ہو اور ہم اس کے سبب سے رحمت سے محروم ہو جائیں...!!
یہ ہے قاطِعِ رحم (یعنی رشتہ توڑنے والے) کی نحوست...!! یہاں سے غور فرما لیجئے کہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami