Share this link via
Personality Websites!
حضرت یحییٰ بن سُلَیْم رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: ایک شخص جو خُراسان(موجودہ ایرا ن کےایک صوبے) کا رہنے والا تھا اور اس نے مکہ مکرمہ میں رہائش اختیار کر رکھی تھی، لوگ اس کے پاس اپنی اَمانتیں رکھتے تھے، ایک شخص اس کے پاس 10ہزار اشرفیاں اَمانت رکھوا کر اپنی کسی ضَرورت سے سفر میں چلا گیا،جب وہ واپس آیاتو خراسانی فوت ہوچکا تھا، اس کے اہل وعیال سے اپنی اَمانت کا حال پوچھا: توانہوں نے لا علمی ظاہر کی، اَمانت رکھنے والے نے علمائے کرام سے پوچھا کہ مجھے کیا کرنا چاہئے ؟ انہوں نے کہا:ہم اُمید کرتے ہیں کہ وہ خُراسانی جنتی ہوگا، تم ایسا کرو کہ آدھی یا تہائی رات گزرنے کے بعدز مزم کے کنویں پر جاکراُس کا نام لے کرآواز دینااور اُس سے پوچھنا۔ اس نے 3راتیں ایسا ہی کیا،وہاں سے کوئی جواب نہ ملا، اُس نے پھر جا کر علمائے کرام کو بتایا، انہوں نے اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡن پڑھ کر کہا:ہمیں ڈر ہے کہ وہ شاید جنّتی نہ ہو تم یمن چلے جاؤ وہاں بَرْہُوْت نامی وادی میں ایک کنواں ہے،اس پر پہنچ کر اسی طرح آواز دو، اس نے ایسا ہی کیا تو پہلی ہی آوازمیں جواب ملا کہ میں نے تمہاری امانت گھر میں فلاں جگہ دفن کی ہے، اس جگہ کو کھود لو تمہیں تمہارا مال مل جائے گا۔ مال کا پتا معلوم کر لینے کے بعد امانت رکھنے والے نے اس خُراسانی سے پوچھا: تُو تو بہت نیک آدَمی تھاتَو یہاں کیسے پہنچ گیا؟ وہ بولا: میرے کچھ رشتے دار خُراسان میں تھے جن سے میں نے قطعِ تعلّق کر (یعنی رشتہ توڑ) رکھا تھا اسی حالت میں میری موت آگئی اس سبب سے اللہ پاک نے مجھے یہ سزادی اور اس مقام پرپہنچادیا۔([1])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami