Share this link via
Personality Websites!
پر قائِم رہے تو وہ خوف والی زِندگی گزارے گا، بیماریوں میں مبتلا رہے گا اور اسے اللہ پاک کی ناراضی کا سامنا بھی کرنا پڑے گا، اگرچہ دُنیا میں اسے لذّتیں مِل بھی جائیں، تب بھی اس عیش میں کوئی بھلائی نہیں جس کے بعد جہنّم ہو۔([1])
گناہ بے عدد اور جُرم بھی ہیں لاتعداد مُعاف کردے نہ سہ پاؤں گا سزا یارب
میں کر کے توبہ پلٹ کر گناہ کرتا ہوں حقیقی توبہ کا کر دے شَرَف عطا یارب([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
(2):قطع تعلقی بُراعیب ہے
پیارے اسلامی بھائیو! دوسرا عیب جو آدمی کو رحمت سے محروم اور بالکل بےوَقعت بنا دیتا ہے، وہ ہے قطع تعلقی یعنی رشتے توڑنا۔ آج کل لوگ بات بات پر تعلقات توڑ دیتے ہیں، فُلاں نے بیٹے کی شادِی پر نہیں بُلایا، لہٰذا اس کے ساتھ مرنا جینا ختم...!!فُلاں نے گھر بُلا کر خاطرخواہ عزّت نہیں دی، لہٰذا آج سے اس کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں، فُلاں رشتے دار نے میری دُکان کی بجائے ساتھ والی دُکان سے سودا خریدا، لہٰذا اس کے ساتھ بول چال بند، بالکل چھوٹی چھوٹی باتوں پر مرنا جینا ختم کیا (یعنی رشتہ توڑا) جا رہا ہوتا ہے حالانکہ جن رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم ہے یعنی رشتے داروں سے اچھا سلوک کرنے کا حکم ہے، ان کے ساتھ رشتہ توڑ دینا، سخت گُنَاہ کا کام ہے۔حدیثِ پاک میں ہے: جو رشتے توڑتا ہے، اللہ پاک اسے توڑ ڈالتا ہے۔ ([3])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami