Share this link via
Personality Websites!
428479
7156
اللہ پاک کا پیارا بنانے والا عمل
اے عاشقانِ اولیا! اَوْلیائے کرام کے ساتھ صِرْف و صِرْف اللہ پاک کی رضا کی خاطِر محبّت رکھنے کی کیسی کیسی برکتیں ہیں، بیان بھی کریں تو کہاں تک کریں؟ اس پاکیزہ اور ایمانی محبّت کی ایک بہترین برکت یہ بھی ہے کہ جو بندہ اَوْلیائے کرام کے ساتھ محبّت کرتا ہے، وہ اللہ پاک کا محبوب (یعنی پیارا) بن جاتا ہے۔ عاشقِ مدینہ، حضرت امام مالِک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے یہ بات لکھی کہ حضرت ادریس خولانی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میں دمشق کی مسجد میں گیا، میں نے دیکھا وہاں ایک نورانی چہرے والے بزرگ بیٹھے ہیں، لوگ اُن کے گرد جمع ہیں، (عِلْمِ دِین سیکھنے سکھانے کا سلسلہ جاری ہے) جب بھی لوگوں کا آپس میں کوئی اختلاف(Disagreement) ہوتا ہے (مثلاً عِلْم کی کوئی بات سمجھنے میں دُشواری ہوتی ہے) تو وہ اسی نورانی چہرے والے بزرگ کے پاس جاتے ہیں، وہ ان کا مسئلہ حل(Solve) کر دیتے ہیں۔ میں نے لوگوں سے پوچھا: یہ نُورانی چہرے والے بزرگ کون ہیں؟ جواب ملا: ہٰذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَل یعنی یہ صحابئ رسول حضرت مُعَاذ بن جبل رَضِیَ اللہ عنہ ہیں۔ حضرت ادریس خولانی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: (اس وقت تو میں واپس چلا گیا) اگلے روز میں نے چاہا کہ میں صبح سب سے پہلے مسجد میں پہنچوں! مگر جب پہنچا تو دیکھا حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہ عنہ مجھ سے پہلے مسجد میں تشریف لائے ہوئے ہیں، آپ نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ فارِغ ہوئے تو میں آگے بڑھا، سلام کیا۔ پِھر عرض کیا: وَاللہ اِنِّی لَاُحِبُّکَ لِلہِ خُدا کی قسم! میں آپ سے اللہ پاک کی رضا کے لئے محبّت کرتا ہوں۔ حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہ عنہ نے یہ سُنا تو فرمایا: کیا تم اس بات پر قسم کھاتے ہو؟ عرض کیا: جی ہاں! خُدا کی قسم! میں آپ سے محبّت
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami