Share this link via
Personality Websites!
428474
7156
حدیثِ پاک ہمارے لئے محبّت کا معیار بھی مقرر کرتی ہے۔ معلوم ہوا؛ * جو جنّت کے رستے پر چل رہے ہیں * جو نمازیں پڑھتے ہیں، سنتیں اپناتے ہیں * نیک کام کرتے ہیں * جنّت میں لے جانے والے اَعْمَال کرتے ہیں * اگر آج ہم ان سے محبّت کریں گے * ان سے دوستی کریں گے تو اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم!روزِ قیامت انہی کے ساتھ ہوں گے اور اللہ نہ کرے! اگر آج ہم جہنّم کے رستے پر چلنے والوں کے ساتھ بیٹھے * جو نمازیں نہیں پڑھتے * روزے نہیں رکھتے * گانے باجے سنتے ہیں * فلمیں دیکھتے ہیں * گالی گلوچ کرتے * لڑائی جھگڑا (Fighting) کرتے * شراب پیتے * جُوا کھیلتے ہیں * اللہ و رسول کی نافرمانی کرتے ہیں، اگر ہم نے ایسوں کے ساتھ دوستی لگائی اور خدانخواستہ توبہ کئے بغیر ہی دُنیا سے چلے گئے تو آہ! حدیثِ پاک کے مُطَابق روزِ قیامت انہی کے ساتھ اُٹھائے جائیں گے۔ الامان والحفیظ!
صحبتِ صَالِح تُرَا صَالِحْ کُند صحبتِ طَالِحْ تُرَا طَالِحْ کُند
ترجمہ: یعنی اچھے کی صحبت(Company) تجھے اچھا بنادے گی ، برے کی صحبت تجھے بُرا بنادے گی۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
یہ ہے جس سے تُو محبّت کرتا تھا...!!
اے عاشقانِ رسول! یہ اَحادیث سُن کر ہو سکتا ہے ذِہن میں خیال آ رہا ہو کہ یہ احادیث تو اس کے متعلق ہیں جسے آدمی نے دیکھا ہو، اس سے مِلا جُلا ہو، پِھر اس کے ساتھ محبّت کی ہو، ہم نے تو غوثِ پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی زیارت بھی نہیں کی، داتا حُضُور رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی صحبت سے محروم رہے ہیں، خواجۂ اجمیر رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی باتیں بھی ہم نے نہیں سُنی ہیں، اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی مُلاقات کا شرف بھی ہم نے حاصِل نہیں کیا ہے، ہمارے لئے یہ فضیلت کیسے ہو سکتی ہے؟ ہم روزِ قیامت اُن کے ساتھ کیسے اُٹھائے جا سکتے ہیں؟ آئیے! اس
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami