Share this link via
Personality Websites!
428473
7156
سُبْحٰنَ اللہ! اس حدیثِ پاک سے معلوم ہو گیا کہ دُنیا میں آدمی جس کے ساتھ محبّت کرتا ہے، روزِ قیامت اسی کے ساتھ ہو گا۔ اب غور فرمائیے! کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ * جو غوثِ پاک سے محبّت کرتے ہیں * خواجہ و رضا سے محبّت کرتے ہیں * اَوْلیائے کرام کے نام کی محفلیں بھی سجاتے ہیں * ان کے ایصالِ ثواب کا اہتمام بھی کرتے ہیں * ان کا ذِکْر بھی کرتے ہیں * ان کے گُن بھی گاتے ہیں * اَوْلیائے کرام کا نام سُن کر * ان کی سیرت (Biography) پڑھ کر * ان کا ذِکْرِ پاک سُن کر جن کے چہروں پر خوشی (Happiness) کی لہر دوڑ جاتی ہے، آج دُنیا میں یہ لوگ اَوْلیا اللہ سے محبّت کرتے ہیں * کل روزِ قیامت رَبِّ کائنات انہیں ان اَوْلیا کے ساتھ ہی رکھے گا * ان کے ساتھ حشر بھی ہو گا اور * اللہ پاک نے چاہا تو ان کے پیچھے پیچھے جنّت میں بھی پہنچ جائیں گے۔
آل و اصحاب سے محبّت ہے اور سب اولیا سے اُلفت ہے
یہ سب اللہ کی عنایت ہے مل گئی مصطفےٰ کی اُمّت ہے
غوث و خواجہ کی دِل میں اُلفت ہے قلب میں عشقِ اعلیٰ حضرت ہے
مرحبا! اپنی خوب قسمت ہے پیر و مرشِد کی دِل میں چاہت ہے([1])
اے عاشقانِ رسول!اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے فرمایا: اَلْمَرْءُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ آدمی اسی کے ساتھ ہو گا، جس سے محبّت کرتا ہے۔([2])
حدیثِ پاک میں جہاں اَوْلیائے کرام سے محبّت کی فضیلت کا پہلو نکلتا ہے، وہیں یہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami