Share this link via
Personality Websites!
428471
7156
اب ذرا غور کیجئے! * جن کے دِلوں میں حُضُور غوثِ پاک رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی محبّت موجود ہے * جو خواجۂ اجمیر رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ سے محبّت کرتے ہیں * جو داتا حُضُور رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ سے محبّت کرتے ہیں * جو بابا فرید رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کے چاہنے والے ہیں * خواجہ نظام الدین اَوْلیا رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی محبّت کا دَم بھرنے والے ہیں * جو میرے رضا سیدی اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی محبّت میں دِن رات گزارتے ہیں * وہ کتنے خوش نصیب(Lucky) لوگ ہیں * کتنے پاکیزہ طبیعت لوگ ہیں، اس حدیثِ پاک سے پتا چل رہا ہے کہ ہمارے دِلوں میں غوث و خواجہ کی محبّت، اَوْلیائے کرام کی محبّت آج سے نہیں ہزاروں سال سے ہے، الحمد للہ ! اَوْلیائے کرام سے محبّت کرنے والے وہ خوش نصیب ہیں کہ جن کو عالَمِ اَرْواح میں موجود کروڑوں رُوحوں میں جو رُوحیں اچھی لگی تھیں، جن کی طرف یہ مائِل ہوئے تھے، وہ کوئی عام لوگ نہیں نیکیاں کرنے والے، اللہ پاک کے محبوب یعنی اَوْلیائے کرام تھے۔
صحابہ کا گدا ہوں اور اَہْلِ بیت کا خادِم
یہ سب ہے آپ ہی کی تو عنایت یارسولَ اللہ!
تمہارا فضل ہے جو میں غُلامِ غوث و خواجہ ہوں
نہ ہو کم اَوْلیا کی دِل سے الفت یارسولَ اللہ!([1])
اللہ! اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! اَوْلیائے کرام کی محبّت کے بھی کیا کہنے...!! یہ وہ پاکیزہ محبّت ہے جو اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! جنّت میں جانے کا ذریعہ بن جائے گی۔ جی ہاں! یہ سچّی بات ہے، حضرت اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ ایک شخص بارگاہِ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami