Share this link via
Personality Websites!
428470
7156
محبّتِ اَوْلیا کی فضیلت پر احادیث
پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک کے نیک پرہیزگار بندوں سے محبّت ہونا بڑی فضیلت کی بات ہے، یہ پاکیزہ محبّت ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی، صِرْف پاک طبیعت لوگوں کو ہی عطا کی جاتی ہے اور جس بندے کے دِل میں اَوْلیائے کرام کی محبّت موجود ہو، یہ اس بات کی دِلیل ہے کہ وہ بندہ پاک طبیعت اور اچھی فطرت کا مالِک ہے۔ حدیثِ پاک کی مشہور کتاب مسلم شریف میں ہے: اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: اَلْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ رُوحیں آپس میں جُڑے ہوئے لشکر ہیں (یعنی اس دُنیا میں جسمِ انسانی میں آنے سے پہلے عالَمِ اَرْواح میں رُوحیں مِل جُل کر رہتی تھیں)۔پس جو رُوحیں (وہاں یعنی عالَمِ اَرْواح میں) ایک دوسرے سے جان پہچان رکھتی ہیں، (دُنیا میں آکر بھی انہی سے) محبّت کرتی ہیں اور جو وہاں آپس میں اجنبی رہ چکی ہیں، وہ یہاں بھی الگ ہی رہتی ہیں۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو!اس حدیثِ پاک پر غور کیجئے! اس دُنیا میں ہمارے بہت سارے جان پہچان والے ہوتے ہیں، کوئی ایسا ہوتا ہے جس کے ساتھ ہم بہت محبّت کرتے ہیں، بعض ایسے لوگ ہوتے ہیں جن سے فقط سلام دُعا ہوتی ہے، کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن کو ہم جانتے تو ہیں، نام بھی معلوم ہے، شکل سے بھی واقف ہیں مگر ان کے ساتھ کوئی سلام دُعا نہیں ہے اور ہزاروں لاکھوں لوگ دُنیا میں وہ ہیں، جن کو ہم جانتے تک نہیں ہیں، یہ معاملہ اصل میں کیا ہے؟ بات اَصْل میں یہ ہے کہ جن کے ساتھ عالَمِ ارواح میں ہماری اچھی جان پہچان تھی، ان کے ساتھ دُنیا میں آکر بھی اچھی جان پہچان ہوتی ہے، جن کے ساتھ وہاں جان پہچان نہیں تھی، ان کے ساتھ یہاں آکر بھی جان پہچان نہیں ہوتی۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami