Share this link via
Personality Websites!
سورۂ طٰہٰ میں اللہ پاک فرماتا ہے :
مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ(۲) ( پارہ : 16 ، طٰہٰ : 2 )
تَرجَمه کَنزُالعِرفَان : اے حبیب ! ہم نے تم پریہ قرآن اس لیے نہیں نازِل فرمایا کہ تم مشقت میں پڑ جاؤ۔
اللہ اکبر ! کیا شان ہے میرے محبوب آقا ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی... ! ! روایات میں ہے : پیارے نبی ، اچھے نبی ، سچّے نبی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم راتوں کو عِبَادت کرتے ، یہاں تک کہ آپ کے قدم مبارک وَرَم کر جاتے ( یعنی Swelling ہو جاتی ) اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور اللہ پاک نے فرمایا : اے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! آپ پر یہ قرآن اس لئے نہیں اُتارا گیا کہ آپ خُود کو مشقت میں ڈال لیں ( [1] ) بلکہ اے پیارے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم !
قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ(۲) نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ(۳) ( پارہ : 29 ، المزمل : 2-3 )
تَرجَمه کَنزُالعِرفَان : رات کے تھوڑے سے حِصّے کے سِوا قیام کرو ! آدھی رات ( قیام کرو ) یا اس سے کچھ کم کر لو !
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحمۃُ اللہ علیہ سورۂ طٰہٰ کی تفسیر میں فرماتے ہیں : دوسروں کو اَعْمال زیادہ کرنے کا حکم ہے مگر حُضُور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو اَعْمال کم کرنے کی ہدایت ہے۔ ( [2] )
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami