Share this link via
Personality Websites!
اب یہاں جو سمجھنے کی بات ہے ، وہ یہ کہ اللہ پاک نے کُفّار کا تو رَدّ فرما دیا کہ وحی کا کچھ دِن کے لئے رُک جانا ، اس لئے نہیں کہ اللہ پاک نے آپ کو چھوڑ دیا ہے بلکہ اس کی حکمتیں کچھ اور ہیں ، اب وہ حکمتیں کیا ہیں ؟ عُلَمائے کرام فرماتے ہیں : وحی اترنا معمولی بات نہیں تھی ، اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں بتایا کہ اگر یہ قرآن پہاڑ ( Mountain ) پراُتار دیا جاتا تواس کے بوجھ سے پہاڑ ریزہ ریزہ ( Crumble ) ہو جاتا ، یعنی وحی آنا اتنابھاری ہوتا ہے ، لہٰذا اللہ پاک نے اپنے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم پر یکبارگی ( یعنی ایک ہی ساتھ ) وحی نازِل نہ فرمائی بلکہ پہلے وحی آنا شروع ہوئی ، پِھر کچھ عرصے کے لئے روک لی گئی ، پھر وَحی شروع ہوئی ، پِھر کچھ دِن کے لئے رُک گئی ، یُوں رفتہ رفتہ وحی کا سلسلہ کیا گیا ، کیوں ؟ تاکہ * محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو مشقت نہ ہو * دِل مبارک پر بوجھ نہ بڑھے * قلبِ اقدس کو اطمینان و سکون بھی رہے اور * شوقِ وحی بھی بڑھتا رہے۔ ( [1] )
اللہ ! اللہ ! غور فرمائیے ! اللہ پاک کو اپنے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سے کیسی نِرالی محبّت ہے ، محبوبِ ذیشان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے دِل مبارک پر بوجھ پڑے ، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو مشقت ہو ، اللہ پاک کو یہ بھی ہر گز گوارا نہیں ہے ، لہٰذا رفتہ رفتہ ( Gradually ) وحی کا سلسلہ جاری کیا گیا۔
واہ کیا مرتبہ ہوا تیرا تُو خُدا کا خُدا ہوا تیرا
ایک عالَم خُدا کا طالِب ہے اور طالِب خُدا ہوا تیرا ( [2] )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami