Share this link via
Personality Websites!
پیارےاسلامی بھائیو ! اللہ پاک نے فرمایا :
مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰىؕ(۳) ( پارہ : 30 ، وَالضُّحٰی : 3 )
تَرجَمه کَنزُالعِرفَان : تمہارے رَبّ نے نہ تمہیں چھوڑا اور نہ ناپسند کیا۔
یہ آیتِ کریمہ محبوبِیّتِ مصطفےٰ کا مختصر بیان ہے ، ویسے اللہ پاک کو اپنے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سے کس قدر محبّت ہے ، ہم اس کا اندازہ لگا ہی نہیں سکتے ، ہم اس محبّت کا زیادہ سے زیادہ بیان کر سکتے ہیں تو صِرْف اتنا ہی کہ
کسی کو کسی سے ہوئی ہے نہ ہو گی خُدا کو ہے جتنی محبّت کسی کی ( [1] )
غرض؛اللہ پاک کو اپنے محبوب سے کیسی محبّت ہے ؟ کتنی محبّت ہے ؟ ہم نہ جانتے ہیں ، نہ جان سکتے ہیں ، البتہ اس آیتِ کریمہ میں اس محبّت کی کچھ جھلک دیکھنے کو ملتی ہے۔
سب سے پہلے تو اسی بات پر غور فرمائیے کہ کچھ دِن کے لئے وَحْی آنا رُک گئی تھی غیر مسلموں نے اسے غلط نگاہ سے دیکھا ، اس سے منفی ( Negative ) نتیجہ نکالا ، وہ سمجھے کہ چونکہ وحی نازِل نہیں ہو رہی ، لہٰذا اس سے پتا چلتا ہے کہ مُحَمَّد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے رَبّ نے انہیں چھوڑ دیا ہے ، ان سے ناراض ہو گیا ہے۔ اُن کا اپنا نقطۂ نظر تھا ، ظاہِر ہے جیسا دِماغ ہو ، ویسی ہی سوچ ہوتی ہے ، کفّار نے منفی سوچا ، اللہ پاک نے فرمایا :
مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَ مَا قَلٰىؕ(۳) ( پارہ : 30 ، وَالضُّحٰی : 3 )
تَرجَمه کَنزُالعِرفَان : تمہارے رَبّ نے نہ تمہیں چھوڑا اور نہ ناپسند کیا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami