Share this link via
Personality Websites!
فرشتوں میں افضل کیا یُوں خُدا نے
کہ کرتے تھے جبریل خِدْمت نبی کی ( [1] )
پیارےاسلامی بھائیو ! یہاں سے محبّتِ مصطفےٰ کی فضیلت ( Importance ) بھی معلوم ہو گئی ، عشق و محبّت کے سبب بارگاہِ رسالت میں حاضِری کے لئے تڑپنے اور مدینۂ پاک بار بار حاضِر ہونے کی فضیلت بھی پتا چل گئی کہ حضرت جبریل امین علیہ السَّلام محبّت کریں ، بار بار آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی خِدْمت میں حاضِر ہوں تو ایسی کرم نوازیاں ہوتی ہیں تو ہم غُلام حاضِر ہوں ، ہم مدینے کی یاد میں تڑپیں ، ہم اپنے آقا و مولیٰ ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سے محبّت کریں ، آپ کی سنتوں پر عمل پیرا ہوں تو کیا ہم محروم رہ جائیں گے ؟ اگرچہ ہم گنہگار ہیں ، ہم ناقِص ہیں ، ناکارہ ہیں ، حضرت جبریل علیہ السَّلام کی توراہ گزر کے قریب کو بھی نہیں ہیں مگر
شانِ کرم کو اچھے بُرے سے غرض نہیں اس کو سبھی پسند ہیں ، اس کو سبھی عزیز ( [2] )
اللہ پاک ہمیں محبّتِ مصطفےٰ نصیب فرمائے ، کاش ! مدینے کی یادوں میں تڑپنا نصیب ہو جائے ، کاش ! بار بار طیبہ کی حاضِری کی سعادت مل جائے اور کاش ! صد کروڑ کاش ! سنہری جالیاں ہوں ، گنبدِ خضراء کا رحمت بھرا سایہ ہو ، لبوں پر درود و سلام کے نغمے ہوں ، ایسی حالت میں دَم نکلے ، لاشہ تڑپے اورمصطفےٰ جانِ رحمت ، شمعِ بزمِ ہدایت صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے قدموں میں گِر کر رُوح پرواز کر جائے۔
مدینے جائیں ، پِھر آئیں ، دوبارہ پِھر جائیں اسی میں عمر گزر جائے یاخُدا یارَبّ !
مرا ہو گنبدِ خضرا کی ٹھنڈی چھاؤں میں رسولِ پاک کے قدموں میں خاتمہ یارَبّ ! ( [3] )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami